’ایران کا جوہری پروگرام منجمد‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نےاپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر روک دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے جوہری ماہرین نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ایران نے یورینیم کو افزودہ کرنے کے پروگرام کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے نے ایران کے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کی تعطلی کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ محمدالبرادعی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے بیس متنازعہ سینٹری فیوج پر کام بھی مکمل طور پر روک دیا ہے۔یاد رہےگذشتہ ہفتے ایران نے کہا تھا کہ وہ ان بیس سینٹری فیوج کو مذکورہ پابندی سے الگ رکھنا چاہتا ہے۔ ایران نے شدت کے ساتھ امریکہ کا یہ دعویٰ مسترد کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام صرف توانائی سے متعلقہ مقاصد کے لیے ہے۔ البرادعی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی معطل کردی ہے۔‘ کئی ماہ کی نزع کے بعد گزشتہ ہفتے ایران اپنے اس مطالبے سے دستبردار ہوگیا تھا کہ کچھ سینٹر فیوج کو منجمد نہ کیا جائے کیونکہ انہیں ایران میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ان فیوج کو یورینیم کو افزودہ کرنے کے کام آتے ہیں جسے بعد میں بجلی گھروں یا ہتھیاروں کسی ایک کے ایندھن کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے ویانہ سے بتایا ہے ایران کے موقف میں تبدیلی سے اب ایران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے حوالے نہیں کیا سکے گا اور نہ اس پر پابندی لگ سکے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||