جوہری پروگرام: ایران کی تجاویز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے وزیرِ خارجہ کمال خرازی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر عالمی تشویش کو کم کرنے کی غرض سے متبادل تجاویز تیار کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کو ویانا کے اجلاس میں لیے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے اس مسئلے کا کوئی حل نکالنے کا فارمولا پیش کیے جانے کے بعد ایران اپنی تجاویز رسمی طور پر پیش کر دے گا۔ ایران کا اصرار ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنا اس کا حق ہے اور یہ کہ وہ یہ بات ثابت کر سکتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ بدھ کو ایران نے دور تک مار کرنے والے شہاب-3 میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ فرانس میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیرسن کا کہنا ہے کہ ویانا میں ایران کے موضوع پر گفتگو سے پہلے فوجی طاقت دکھانے کا یہ تجربہ بظاہر سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ توقع ہے کہ بات چیت میں یورپی اقوام ایران سے یہ مطالبہ کریں گی کہ وہ یورینیم افزودہ کرنے کے پروگرام سے دستبردار ہو جائے جس کے بدلے میں اسے جوہری ایندھن فراہم کرنے کی ضمانت دی جائے گی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نومبر میں ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے اجلاس سے قبل مذاکرات کاروں کی طرف سے کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کی یہ آخری کوشش ہے۔ اگر ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کے پروگرام کوترک نہ کیا تو اس پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||