’ایران نے افزودگی ختم نہیں کی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارہ، آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ختم نہیں کی ہے۔ عالمی ادارہ جوہری توانائی (آئی اے ای آے) کے ویانا میں ہونے والے ایک اہم اجلاس جس میں ایران کے جوہری پروگرام کا جائزہ لینے والا ہے۔ محمد البرادی نے آئی اے ای اے کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے کہا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ختم نہیں کی ہے۔ محمد البرادی نے کہا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ اس کی جوہری پروگرام کے بیس سینٹریفوگ کو چلنے دیاجائے۔ محمد البرادی نے کہا ہے کہ اس کے بارے میں فیصلہ چند گھنٹوں میں ہو جائے گا۔ ایران نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو روک رہا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں نہ بھیجا جائے۔ بدھ کو تہران میں سفارت کاروں نے بتایا کہ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر تحقیق کے راستے کھلے رکھنے کے معاہدے کی شق کو تبدیل کیا جائے۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی جنہوں نے مل کر ایران کو یورینیم کی افزودگی کا پروگرام معطل کرنے پر آمادہ کیا، ایران کا تازہ ترین مطالبہ ماننے پر تیار نہیں ہیں کہ ایران کو تحقیق کی اجازت دی جائے۔ گزشتہ چند دنوں میں آئی اے ای اے کے انسپکٹر ان کوششوں میں لگے رہے ہیں کہ دیکھیں کیا ایران واقعی اپنے پروگرام کو معطل کر چکا ہے یا اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادارے کے سربراہ محمد البرادعی پینتیس اقوام کے نمائندہ بورڈ کے سامنے جمعرات کو رپورٹ پیش کریں گے۔ ادھر فرانس، برطانیہ اور جرمنی عالمی جوہری ادارے کو ایک مسودہ پیش کریں گے جس میں کہا جائے گا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو روک دینے کا جو اعلان کیا ہے اس کی معطلی کو جاری رکھا جائے۔ مسودے میں یہ بھی ہے کہ اگر ادارے کے سربراہ البرادعی کو کوئی ایسی شہادت ملے جس سے ظاہر ہو کہ ایران کا پروگرام نامکمل طور پر معطل ہے تو وہ بورڈ کو فوری طور پر آگاہ کریں۔ سفارت کار کہتے ہیں کہ اس مسودے سے بہر حال امریکہ کو خوشی نہیں ہوگی کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ اس مسئلے پر سخت موقف اختیار کیا جائے اور اگر ایران سے کوئی لغزش ہوجائے تو اس کا معاملہ جوہری ادارے کے بورڈ کی بجائے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس بھیج دیا جائے جہاں ایران کو پابندیوں تک کا سامنا ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||