ایران کا جوہری پروگرام معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو ’کافی حد تک‘ معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ یہ قدم یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مستحکم بنانے کے لیے کیے گئے معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ ایران کے اعلی مذاکرات کار، حسن روحانی نے فرانس ، جرمنی اور برطانوی حکام سے مذاکرات کے بعد کہا کہ جب تک ایٹمی امور پر حتمی معاہدہ نہیں ہوجاتا یہ پروگرام اس وقت تک معطل رہے گا۔ یورپی یونین نے اس ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے بدلے میں ایران کو تجارت اور توانائی کے شعبے میں مزید تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ایک مغربی سفارت کار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی جوہری نگراں ایجینسی آئی اے ای اے، کو ایران کی طرف سے اس معاہدے کی تصدیق کا خط مل گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اُس کا ایٹمی پروگرام پُر امن ہے جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور وہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے سامنے پیش کرے گا تاکہ ایران پر پابندیاں لگائی جا سکیں۔ لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب یورپی یونین کے ساتھ اِس معاہدے کے بعد ایسا ہونے کی امید کم نطر آتی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||