BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 November, 2004, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری پروگرام پر عبوری معاہدہ
ایران
ایران کا یورپین یونین کے ساتھ جوہری پروگرام کے بارے میں عبوری معائدہ طے پا گیا ہے
ایران کے اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ یورپین یونین کے ساتھ جوہری پروگرام پر عبوری معاہدہ طے پا گیا ہے لیکن اس کی کوئی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

حسین موسویان نے جو ایران کی طرف سے مذاکرات میں شریک ہوئے ہیں ، کہا ہے کہ جرمنی ، فرانس اور انگلینڈ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلویژن کو انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک جرمنی، برطانیہ اور فرانس کی طرف اس عبوری معائدے کی توثیق نہ ہو جاتی وہ اس کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائیں گے۔

انہوں نے کہا عبوری معاہدے کی توثیق کے بعد ورکنگ گروپ اپنا کام شروع کریں گے۔ حسین موسویان نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد یورپ اور ایران کے تعلقات میں اہم تبدیلی آئے گی۔

ایرانی اہلکار نے کہا کہ مذاکرات بائیس گھنٹوں تک جاری رہے ۔ایران کے اہلکار نے کہا معاملات بہت ہی پیچیدہ تھے لیکن ایک عبوری معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینائی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا میں چند ایک ملک جوہری ایندھن بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایران ان میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہ ایران کی جوہری ایندھن بنانے کی صلاحیت کی وجہ سے ساری دنیا میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں شورو غوغا ہو رہا ہے۔

یورپی مملک ایران کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو ترک کر دے ورنہ اسے اقوام متحدہ میں تادیبی پابندیوں کے اقدامات کا خطرہ پیش آ سکتا ہے۔

اگرچہ حکام نے پیرس میں ہونے والی بات چیت کی کوئی تفصیل نہیں بتائی لیکن کہا جا رہا ہے کہ ایران کی طرف سے یورینیم کی افزونی کو روکنے کی صورت میں اسے جوہری ایندھن مہیا کیا جائے گا اور تجارت میں اس کے حصہ میں اضافہ کیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے چھ ماہ تک یورینیم کی افزونی روکنے کی پیش کش کی ہے جبکہ یورپی ملکوں کا مطالبہ ہے کہ ایران کو یورینیم کی افزونی کا کام غیر معینہ عرصے کے لیے روک دینا چاہیے۔

اس سے پہلے ایران کے جوہری پروگرام پر ویانہ میں ہونے والے دو اجلاس بغیر کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

دوسری طرف چین کے وزیر خارجہ لی ژیانگ زنگ نے ان امریکی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا جائے۔

چینی وزیر خارجہ جو آج کل تہران کے دورے پر ہیں کہا ہے کہ اس قسم کے اقدام سے معاملہ اور پیچیدہ ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جو تشویش ہے اسے بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کی حدود میں طے کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد