ایران چین گیس فراہمی کا معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ اور تہران سے آمدہ اطلاعات کے مطابق چین کی دوسری بڑی کمپنی سائنوپیک نے ایران سے آئندہ پچیس سال میں سو بلین ڈالر مالیت کی ایل این جی گیس خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر برائے تیل نے ایک ایرانی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ سودا دو گنا بھی ہو سکتا ہے یعنی دو سو بلین ڈالر کا۔ فریقین میں یہ بھی طے ہوا ہے کہ سائنوپیک ایران میں یادوران کے علاقے میں تیل نکالنے کا کام کرے گی جہاں اندازہ ہے کہ تین بلین بیرل بھاری اور ہلکا خام تیل نکل سکتا ہے جس میں سے نصف چین کو ملے گا۔ ایک ایرانی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ پیداوار کے لحاظ سے یہ دنیا میں تیل کا سب سے عمدہ علاقہ ہے تاہم کم سے کم چار سال کے بعد یہاں تیل نکل سکے گا۔ اسلامی طلبا کی خبر رساں ایجنسی نے ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن کا یہ بیان بطور تبصرہ شائع کیا ہے کہ چین کو سیاسی طور پر بھی ایران سے تعاون کرنا چاہیے۔ ایران کو یہ امید ہے کہ اگر اس کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سامنے رکھا گیا تو چین پابندیوں کی قرار داد کو ویٹو کردے گا۔ چین اپنی ضرورت کا چودہ فیصد تیل ایران سے درآمد کرتا ہے اور اس تازہ سودے کے بعد اسے اور بھی زیادہ پس و پیش ہوگا کہ ایرانی تیل اور گیس کی برآمد پر کسی طرح کی پابندی لگائی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||