’ایٹمی توانائی پر انحصار بڑھے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے نے پیشن گوئی کی ہے کہ آئندہ برسوں میں ایٹمی توانائی کا استعمال بڑھ جائے گا۔ جوہری توانائی کے پچاس سالہ استعمال سے متعلق ماسکو میں ہونے کانفرنس کے موقعہ پر ریلیز کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیا میں سب سے زیادہ ری ایکٹر بنائے جا رہے ہیں۔ دنیا میں بجلی کا چھٹا حصہ جوہری توانائی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کا خیال ہے کہ جیسے جیسے عالمی حدت پر تشویش بڑھے گی جوہری توانائی کا استعمال بھی بڑھے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار تیس تک دنیا کی ضروریات کا چوتھائی حصہ یہ جوہری ری ایکٹر پورا کر رہے ہوں گے اور جوہری توانائی کا یہ استعمال بڑھتا جائے گا۔ لیکن جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے ایلن میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ ایسا تب ہو گا جب کیوٹو پروٹوکال جیسے عالمی معاہدوں کے تحت ایسی ٹیکنالوجیوں پر جرمانے لگائے جائیں جن سے کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایٹمی توانائی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے استعمال سے گرین ہاوس گیس کا اخراج نہیں ہوتا‘۔ ایشیا جوہری توانائی کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔ اکتیس میں سے اکیس ری ایکٹر ایشیا میں ہیں اور دنیا میں نئے بنائے جانے والوں میں سے ستائیس ایشیا میں ہیں۔ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں نئے ری ایکٹر بنانے کا سلسلہ اب کافی حد تک رک گیا ہے اور اس کی وجہ ماحول کے بارے میں پائی جانے والی تشویش اور چرنوبیل میں ہونے والا حادثہ ہیں۔ اگلی کچھ دہائیوں میں گیس کے ذخائر میں کمی ہوگی اور پھر ماحولیاتی ادارے عالمی حدت سے پیدا ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے جوہری توانائی کے استعمال پر زور دیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||