BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 June, 2004, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یورینیم مفاہمت پر نظرثانی
ایران
ایران کا ایک جوہری پلانٹ
ایران کے جوہری توانائی کے اہم افسر کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی مذمت کے بعد وہ اپنے یورینیم کی افزودگی کی معطلی کے رضاکارانہ فیصلے کا از سر نو جائزہ لیں گے۔

حسن روحانی نے تہران میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ یورینیم کے بارے میں فیصلے اگلے چند روز میں کیے جائیں گے۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے نے جمعہ کو کہا ہے کہ ایران ملک کے جوہری توانائی کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں مکمل طور پر تعاون نہیں کر رہا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنا رہا ہے لیکن ایران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

روحانی نے کہا ہے کہ پچھلے اکتوبر میں یورینیم کی افزودگی کی معطلی کا فیصلہ قانونی نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تب سے ایرانی حکومت نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے اضافی پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں اور عالمی ادارے کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے۔ مگر برطانیہ، فرانس اور جرمنی جنہوں نے تہران کو افزودگی کی معطلی پر مائل کیا تھا نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

انہوں نے کہا ’یورپی ممالک نے وعدہ کیا تھا کہ جون تک ایران سے متعلق معاملات ختم کر دئیے جائیں گے لیکن انہوں نے اپنی یقین دہانیوں پر عمل نہیں کیا‘۔

جمعہ کو عالمی ادارے کے بورڈ نے ایران سے متعلق ایک قرارداد منظور کی جس میں ایران کے عدم تعاون کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس میں اس امر پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ ایران کے پی ٹو سنٹرفیوگس سے متعلق اہم معلومات بھی نامکمل اور مبہم ہیں۔

انتہائی افزودہ شدہ یورینیم فوجی اور غیر فوجی مقاصد کیے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تہران نے امریکہ کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس کا جوہری توانائی کا پروگرام ہتھیار بنانے کے لیے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کو بجلی پیدا کرنے کے لیے ہی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

روہانی نے کہا کہ ان کا ملک جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے اس مطالبے کا مثبت جواب نہیں دے گا جس میں کہا گیا ہے کہ ایران اصفہان میں یورینیم کی تبدیلی کے لیے بنائے جانے والے پلانٹ اور اراک میں بھاری پانی کے ری ایکٹر کا از سر نو جائزہ لے۔

انہوں نے کہا ’اصفہان اور اراک پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی‘ اور زور دیا کہ وہ کسی جگہ پر بھی خفیہ طور پر یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہے۔

قرارداد میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی اصل نوعیت سے متعلق تھوڑی بہت پیش رفت ہوئی ہے لیکن یہ تحقیقات آئیندہ چند ماہ میں مکمل ہوجائیں گی۔

برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے اس وقت قرارداد کے مسودہ پر اس وقت آمادگی ظاہر کی تھی جب امریکہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے لیے ایک وقت مقرر کرنے پر زور دے رہا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد