ایران پر امریکہ کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اسلحہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ کے بعد جوہری سرگرمیوں کی اپنی وضاحتیں مسلسل تبدیل کررہا ہے۔ امریکہ کے مطابق اسلحہ کے معائنہ کاروں نے ایران کی ایسی سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں ایرانی حکام نے خفیہ رکھا ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے لئے امریکی سفیر کینتھ بِل نے کہا ہے کہ ایران اپنی کہانی حقائق کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ آئی اے ای اے کو کئی برس تک ایران کے معاملات سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بیان ویانا سے جاری کیا جہاں آئی اے ای اے کے گورنرز کا بورڈ اپنے اجلاس میں اس بات پر غور کر رہا ہے کہ ایران سے کس طرح معاملات طے کئے جائیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل محمد البرادی نے کہا ہے کہ وہ جوہری معلومات کے کچھ حصے ظاہر نہ کرنے پر ایرار کے بارے میں تشویش کا شکار ہیںآ انہوں نے ایران کے اس مطالبہ کو بھی رد کردیا کہ اس معاملہ کو بین الاقوامی معاملات کی فہرست سے خارج کردیا جائے۔ دوسری جانب ایران کے سفیر پیروز حسینی کا کہنا ہے کہ ایران نے کبھی یہ دعوٰی نہیں کیا کہ وہ دستاویز مکمل تھا۔ پیروز حسینی نے مزید کہا کہ ان کا ملک پروپیگنڈے کی جنگ کا شکار ہوگیا ہے۔ تاہم ان کے امریکی ہم منصب نے کہا ہے کہ جیران نے اکتوبر والی رپورٹ مکمل اور شفاف ہوگی۔ ’جب یہ ثابت ہوگیا کہ ایران کا دعوٰی غلط تھا تو ایرانیوں نے اپنی کہانی بدل لی‘۔ ویانا مذاکرات کے دوران البرادی نے کہا ہے کہ ایران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران نے گزشتہ سال بین الاقوامی دباؤ کے تحت جوہری افزودگی کا اپنا پروگرام روک دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||