جوہری گفت وشنید: ’پیش رفت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر پیرس میں ہونے والی گفت و شنید میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ فرانس کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ دو روزہ اجلاس میں ایران، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے نمائندے شامل تھے۔ ترجمان کے مطابق جوہری پروگرام پر ہونے والی بات چیت میں کئی مشکلیں درپیش تھیں لیکن بیس گھنٹے کی گفت و شنید کے بعد شرکاء ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یورپی مملک ایران کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ یورینیم کی افزونی کے پروگرام کو ترک کر دی ورنہ اسے اقوام متحدہ میں تادیبی پابندیوں کے اقدامات کا خطرہ پیش آ سکتا ہے۔ اگرچہ حکام نے پیرس میں ہونے والی بات چیت کی کوئی تفصیل نہیں بتائی لیکن کہا جا رہا ہے کہ ایران کی طرف سے یورینیم کی افزونی کو روکنے کی صورت میں اسے جوہری ایندھن مہیا کیا جائے گا اور تجارت میں اس کے حصہ میں اضافہ کیا جائے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے چھ ماہ تک یورینیم کی افزونی روکنے کی پیش کش کی ہے جبکہ یورپی ملکوں کا مطالبہ ہے کہ ایران کو یورینیم کی افزونی کا کام غیر معینہ عرصے کے لیے روک دینا چاہیے۔ اس سے پہلے ایران کے جوہری پروگرام پر ویانہ میں ہونے والے دو اجلاس بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک اور ایران کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کے لیے وسط نومبر کی ڈیڈلائن مقرر ہے اور اگر اس وقت تک کسی نتیجے پر نہ پہنچا جا سکا تو یورپی ممالک امریکہ کے اس موقف کی حمایت کریں گے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے سپرد کر دیا جائے۔ دوسری طرف چین کے وزیر خارجہ لی ژیانگ زنگ نے ان امریکی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا جائے۔ چینی وزیر خارجہ جو آج کل تہران کے دورے پر ہیں کہا ہے کہ اس قسم کے اقدام سے معاملہ اور پیچیدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جو تشویش ہے اسے بین الاقوامی جوہری جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کی حدود میں طے کیا جانا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||