BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 February, 2005, 00:10 GMT 05:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نیوکلئیر پروگرام ختم نہ ہوگا‘
صدر خاتمی
’نیوکلئیر اسلحہ طاقت کی علامت نہیں: خاتمی
ایران کے صدر محمد خاتمی نے کہا ہے کہ ان کا ملک بین الاقوامی دباؤ کے باوجود نیوکلئیر ٹیکنالوجی کا پروگرام ترک نہیں کرے گا۔

مسٹر خاتمی نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ نامناسب سلوک کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

صدر خاتمی نے امریکہ کے اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہ ایران کا نیو کلئیر پروگرام اصل میں اسلحے کی پیدوار کے لئے ہے، ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے اور بجلی کی پیدوار سے منسلک ہے۔

صدر خاتمی نے کہا کہ ’ہم اس بات کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ہم نیوکلئیر اسلحہ نہیں بنا رہے کیونکہ ہم اس کے خلاف ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے اسلحے سے طاقت حاصل نہیں ہوتی۔ لیکن ہم پر امن مقاصد کے لئے نیوکلئیر ٹیکنالوجی ترک نہیں کریں گے۔‘

صدر خاتمی نے یہ باتیں تہران میں غیر ملکی سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

یورپی ممالک ایران کے ساتھ نیوکلئیر معاملے پر جینیوا پچھلے کچھ عرصے سے مذاکرات کررہے ہیں اور اس پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ یورنیم افزود کرنا ترک کردے۔ ایران ان مذاکرات کے نتیجے میں یورنیم افزود کرنا ترک کرچکا ہے لیکن مسٹر خاتمی نے کہا کہ ایسا کرنا ایران کا واضح حق ہے اور ایران نے صرف خیر سگالی کے طور پر ایسا کیا تھا۔

صدر خاتمی نے کہا کہ ’اگر دوسرے اپنا وعدہ پورا نہ کریں تو ہم بھی ایسا نہیں کریں گے اور ہم اپنی پالیسی بدل سکتے ہیں جس کے نتائج بہت وسیع پیمانے پر ظاہر ہوسکتے ہیں جس کے ذمہ دار وہی لوگ ہونگے جو اپنا وعدہ پورا نہیں کررہے۔‘

یورپی یونین ایران کو اپنا نیوکلئیر پروگرام ترک کرنے کے بدلے جو مراعات پیش کررہا ہے وہ ایران کے مطابق بہت کم ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یہ مذاکرات صند مہینوں تک جاری رکھ سکتی ہے نہ کہ برسوں تک۔

امریکی صدر بش نے واشنگٹن میں ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیوکلئیر اسلحے سے لیس ایران دنیا کو غیر مستحکم کرسکتا ہے اور تمام مغربی ممالک کو مل کر ایران کو روکنے کی کوشش کرنا چاہئیے۔

صدر بش کی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائں سے مشرق وسطی کے دورے کے دوران یہی بات دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے لئے اقوام متحدہ کو متحرک کرنے کے لئے امریکہ کے پاس کوئی ڈیڈ لائن تو نہیں لیکن سفارتکاری کے ذریعے اس معاملے کو حل کیا جانا چاہئیے۔

جوہری راز سرِ بازار؟جوہری راز سرِ بازار؟
وسعت اللہ خان کا کالم، آپ کی رائے
پاکستان کے جوہری سائنسدانبم: قوت یا مصیبت
جوہری سائنسدانوں کی تفتیش پرخصوصی ضمیمہ
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کون ملوث ہے؟
جوہری تفتیش سے مچنے والی ہلچل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد