جوہری ٹیکنالوجی سرِ بازار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئی ڈیڑھ سال بعد پاکستان میں چار ہفتے کی چھٹی گزارنے کے دوران جہاں ماحول اور حالات سے قربت نصیب ہوئی اور خود کو اپ ڈیٹ کرنے کا موقعہ ملا وہاں کچھ انگریزی اصطلاحات کی حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں معنویت بھی کھلی۔ مثلاً اسلام آباد جا کر یہ معلوم ہوا کہ ’ڈی بریفنگ‘ کا مطلب ہے ’چھتر پریڈ‘۔
کل تک جو ایٹمی سائنسداں ہاتھوں ہاتھ اٹھائے جا رہے تھے آج گھروں سے اٹھائے جا رہے ہیں۔ جنہیں پلکوں پر بٹھایا جا رہا تھا، آج تیز روشنی کے سامنے رکھی وہیل چیئر پر بٹھایا جا رہا ہے۔ کہا تو یہ جا رہا تھا کہ کہوٹہ کے اوپر سے ایک چڑیا کا بچہ بھی نگاہ میں آئے بغیر نہیں گزر سکتا اور اب یہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ رازوں کے پلندے کے پلندے یہاں سے نکل کر کہیں اور پہنچ گئے۔ اس سوال کا جواب فی الوقت کہیں سے نہیں مل پا رہا کہ ایک ایسی عمارت جس کی ہر اینٹ فوجی ایجنینیئروں کی نگرانی میں استوار کی گئی، جہاں آلات اور کل پرزوں کی تیاری سے لے کر ایک معمولی نائب قاصد سے ڈاکٹر قدیر خان تک کا پورا شجرہ اور نقل و حرکت کا ریکارڈ نگرانوں کے پاس موجود رہا اور ہے، وہاں سوئی کے ناکے سے اونٹ آخر کس طرح نکل گیا؟ اگر یہ سائنسداں اتنے ہی بے باک اور خود سر تھے کہ بارہ چودہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے نیٹ ورک کو جل دے کر کام دکھا گئے تو پھر ڈی بریفنگ کا دائرہ پچھلے بیس پچیس برس کے دوران ایٹمی پروجیکٹ کی سیکیورٹی کے نگرانوں اور ایجنسیوں کے اہل کاروں تک وسیع کیوں نہیں کیا جا رہا؟ جو بات سب سے پہلے ویانا میں قائم جوہری توانائی کی بین الاقوامی تنظیم کے زلزلہ پیما آلات نے محسوس کر لی، وہ اسلام آباد میں کسی کو کیوں نہ معلوم ہو سکی؟ چلئے مان لیتے ہیں کہ غفلت ہوئی لیکن غفلت کے ازالے کا کیا یہ طریقہ بہتر ہے کہ جوہری سائنسدانوں کو دھوم دھڑکے کے ساتھ ڈی بریفنگ کے انگاروں سے گزارا جائے یا یہ طریقہ بہتر ہوتا کہ بغیر تشہیر کے ان سائنسدانوں سے باکل اسی طرح سے پوچھ گچھ کی جاتی، جس طرح بے قاعدگی میں ملوث فوجی جرنیلوں سے فوج کے اندر کئے جانے کا رواج ہے۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ کچھ سروں کو بچانے کے لئے کچھ سروں کو قربان گاہ تک پہنچا کر معاملے سے بری الذمہ ہونے کی سر توڑ کوشش ہو رہی ہے۔ کیا اس پوری مشق سے یہ تاثر زائل ہو جائے گا کہ پاکستان جوہری ٹیکنالوجی کے تحفظ کے معاملے میں ایک ذمہ دار ملک نہیں ہے۔ ویسے جوہری ٹیکنالوجی کے معاملے میں ذمہ دار ملک ہے کون؟
امریکہ نے ایٹم بم بنانے کے لئے نازی جرمنی سے بھاگنے والے سائنسداں اوپن ہائیمر کی خدمات حاصل کی تھیں، سوویت یونین کو امریکہ کے ایٹمی راز روزنبرگ نے فراہم کئے تھے، چین کو ایٹمی استعداد سویت یونین کی ٹیکنالوجی سے نصیب ہوئی تھی، اسرائیل امریکہ کی صنعتی جاسوسی اور پینٹاگون کے رفیقوں کی مدد سے ایٹمی طاقت بن پایا اور جوبی افریقہ کا ایٹمی پروگرام اسرائیل کا مرہونِ منت رہا۔ لیکن بدلے ہوئے حالات میں پاکستان اگر یہ دلیل دے بھی تو دہ کسے اور سنے گا کون۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ جو ٹیکنالوجی ملک کے تحفظ کے لئے جاں توڑ کوششیں کرکے حاصل کی گئی ہے، ایک دن وہ گلے میں لٹکا کر سرِ بازار یوں چلنا پڑے گا۔
میاں خالد جاوید، لاہور، پاکستان: ساڈے ملک دیاں موجاں ہی موجاں۔ جدھر ویکھو فوجاں ہی فوجاں ارشد بٹ، ناروے: جرم ہیرو کرے یا زیرو، ہے تو جرم ہی ناں۔ قانون سے بالا کوئی نہیں ہونا چاہئے۔ سزا ملنی چاہئے۔ قمر فاروقی، کراچی، پاکستان: لیاقت بلوچ کا بیان بہت اچھا لگا کہ آج سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ کرنے والے سمجھ لیں کہ کل جرنیلوں کی بھی ڈی بریفنگ ہو سکتی ہے۔ خانم سومرو، کراچی، پاکستان: گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے احمد عبدالرحیم، واٹرلو، کینیڈا: مشرف کی افغانستان کے خلاف جنگ کے حق میں پالیسی کے تین اہم نکات تھے۔ کشمیر، جوہری طاقت اور معیشت ۔ کشمیر پہلے ہی جا چکا، جوہری ہتھیار جا رہے ہیں اور معیشت پر شوکت عزیز کی تین دسمبر کی تقریر یاد کریں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ معیشت فیل ہو گئی ہے۔ عامر ہاشمی، گجرانوالہ: میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ مشرف صاحب اس وقت سخت دباؤ میں ہیں۔ پاکستان کے حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ میری چھٹی حس گواہی دے رہی ہے کہ کچھ ہونے والا ہے، سن اکہتر سے بھی بڑا سانحہ۔ محمد صلاح الدین ایوبی، پشاور: اس ملک میں اب ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے سائنسدان پیدا نہیں ہونگے۔ احسن شیخ، ٹورانٹو: ساری صورت ایک فوجی یونٹ کی سی ہے، جہاں مشرف حولدار میجر ہیں، اور جارج بش کمانڈِنگ افسر۔
اشرف سید، کراچی: آگ ہی اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے، کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے۔ رِضوان عادل، پاکستان: چور کی داڑھی میں تِنکا۔ شاعر چنجہ، پاکستان: سکول میں جب میں آدھا سوال یا آدھا جواب دیتا تو میرے استاد مجھے ڈانٹ پلاتے تھے۔ لیکن یہاں سرِ عام آدھا سوال کیا جا رہا ہے اور آدھا جواب دیا جا رہا ہے۔ پورا سوال یوں ہونا چاہئے کہ ’یہ جوہری توانائی تم نے کس سے لی ہے اور مجھے کس نے بتایا ہے؟‘ عاصم الدین، برطانیہ: جہاں تک میں سمجھ پایا پاکستانی فوج شروع سے لے کر اب تک تمام معاملے میں ملوث رہی ہے۔ اب جب کہ امریکہ کی وجہ سے جان پر بنی ہے تو خود کو پاک دامن ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ مدس گائے پھر بچ کر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ منیر احمد سلیمی، امریکہ: لگتا ہے مشرف میں ریڑھ کی کوئی ہڈی نہیں ہے اور اسی لئے وہ سوائے لچک دکھانے کے اور کوئی کام نہیں کر سکتے۔ سعید قریشی، ٹورنٹو، پاکستان: اس تمام صورتِ حال کے بارے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ’چور مچائے شور‘۔ نسیم، جھنگ، پاکستان: کیا خوب کہا ہے شاعر نے ’میری آواز سنو، مجھے آزاد کرو‘۔ کوئی ہے، ارے بھئی کوئی ہے جو میرے ہیروز کو آزاد کروائے۔ افسوس اب تو کوئی مولوی بھی نہیں ہے۔
اللہ دتہ، سٹاک ہوم، سویڈن: اس سے پہلے پاکستان میں نعرہ ہوتا تھا کہ ’پاکستان، زندہ باد‘۔ اب پاکستان میں تمام اعلیٰ تعلیم یافتہ افرادد کے لئے نعرہ ہونا چاہئے کہ ’پاکستان سے زندہ بھاگ‘ خاص طور پر سائنسدانوں کے لئے۔ اگر یہی سائنسداں یورپ یا امریکہ کے لئے کام کر رہے ہوتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ظفر صادق، کراچی، پاکستان: فوجی ہر کام کو اتنے بھونڈے طریقے سے کیوں کرتے ہیں کیا ان کی اوپر کی منزل خالی ہوتی ہے؟ صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان: کل تک پرویز مشرف زور زور سے نعرہ لگا رہے تھے کہ ہمارے جوہری اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور چند سائنسدانوں کی پکڑ دھکڑ کرکے اپنی کرسی اور ٹوپی بچا رہے ہیں۔ عوام کا خون نچوڑ کر جو طاقت حاصل کی گئی اب اس کو اس طرح ختم یا کم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی تمام پالیسیاں کسی خاص طاقت کو فائدہ پہنچانے کے لئے تھیں یا پھر یہ ایک وقتی فیصلہ تھا۔ خدا پاکستان کو آزادی نصیب کے فوج سے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||