| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’۔۔۔سراغ پاکستان کی دہلیز تک‘
نئے سال کے پہلے روز ہی امریکی صدر بش نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور یہی بات اہم ہے‘۔ ابھی اس بیان کی تازگی برقرار تھی کہ ایک دن کے وقفہ سے امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز میں ایک طویل مضمون شائع ہوا جس کا عنوان ہے: ’سرکش جوہری منصوبے، کُھروں کے نشان پاکستان کی دہلیز تک جاتے ہیں‘۔ اس مضمون میں خان ریسرچ لیبارٹریز کے ایک بروشر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں بقول اخبار کے جوہری میدان میں پاکستان کی تیس سالہ تحقیق کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی مختلف ’مہارتوں‘ کی ترویج کی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق اسے یہ بروشر واشنگٹن میں ’انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی‘ نے دیا ہے۔ اس مضمون میں جوہری تحقیق سے متعلق بین الاقوامی اداروں اور مختلف خفیہ ایجنسیوں کے معلوم اور نامعلوم حکام کے حوالے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ چین، شمالی کوریا، عراق، ایران اور لیبیا کے ایٹمی منصوبوں سے کسی نہ کسی نسبت سے پاکستان کا تعلق رہا ہے۔ مضمون میں ایک ایسے عالمی جال کا ذکر ہے جو جرمنی، دبئی، چین اور جنوبی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں کئی سپلائر اور جوہری آڑھتی شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر مختلف ملکوں کی جوہری پالیسی سے متعلق اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ لیبیا نے اپنے منصوبے کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، ایران نے جوہری توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کی اچانک معائنوں کے لئے اپنی جوہری تنصیبات کھول دی ہیں، شمالی کوریا نے بھی کچھ ایسے ہی اشارے دیئے ہیں۔ جبکہ عراق کے پاس اگر کچھ تھا تو اب امریکہ کے براہ راست قبضہ میں ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ پاکستان کے جوہری پروگرام سے ہمیشہ شاکی رہے ہیں اور مختلف اوقات میں ایسے مضامین اور خبریں شائع کی گئی ہیں جن میں بعض اوقات صاف طور پر اور کبھی اشاروں کنایوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ نہیں ہے۔ حالیہ مضمون میں پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق مختلف امریکی حکومتوں پر بھی تنقید کی گئی ہے جنہوں نے مختلف مصلحتوں کے پیش نظر چشم پوشی اختیار کی اور اگر کچھ کیا بھی تو دکھاوے کی حد تک۔ تمہید اگرچہ لمبی ہوگئی تاہم بات کے سیاق و سباق کے لئے ایسا کرنا کچھ ضروری بھی تھا۔ بات یہ ہے کہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق پاکستان کا موقف اب تک یہ رہا ہے کہ اس کا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم‘ انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ تاہم گزشتہ دنوں پہلے ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیاں ہوئیں اور بعد میں حکومت پاکستان نے تسلیم کیا کہ وہ ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق بعض سائنسدانوں سے تفتیش (ڈی بریفنگ) کر رہے۔ پہلے تو اسے معمول کی کارروائی قرار دیا گیا تاہم بعد میں ایک وفاقی وزیر نے اعتراف کیا کہ جوہری پھیلاؤ کے سلسلے میں چند سائنسدان زیر تفتیش ہیں۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ بعد میں حکومت پاکستان نے یہ تک کہا کہ ہو سکتا ہے کہ بعض سائنسدانوں نے انفرادی لالچ میں جوہری معلومات کا تبادلہ کیا ہو۔ اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ پاکستان کے سائنسداں جوہری پھیلاؤ میں ملوث رہے ہیں تو اس سے حکومت کا یہ دعوی یقیناً باطل ہوجائے گا کہ اس کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ دوسری جانب صدر جنرل مشرف پر حالیہ دنوں میں کم سے کم دو جانی حملے ہو چکے ہیں۔ تیسری جانب ملک میں طالبان حامی سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سیاسی اثر کو امریکہ اور مغربی ممالک کسی طور نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ادھر پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں چند ماہ سے بہتری کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ اور اگر پاکستان اور بھارت کے تنازعات پرامن طور پر حل ہوجاتے ہیں، اگرچہ بظاہر مستقبل قریب میں اس کا امکان نظر نہیں آتا، تو پھر پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار رکھنے کے جواز کا سوال بھی پیدا ہوگا۔ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد، ’دہشت گردی‘ کے خلاف امریکی جنگ میں ساتھ دینے کا چیک پاکستان کب تک کیش کروائے گا اور امریکہ پاکستان کے جوہری پروگرام سے کب تک صرف نظر کرے گا۔ ان معروضی حالات میں جبکہ پاکستان میں اخباری رپورٹوں کی بنیاد پر حکومتیں ختم کی گئیں، اور عالمی سطح پر ایک طالبعلم کے مکالے کو عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے’مشہور زمانہ‘ ڈوزیئر میں بطور ثبوت شامل کیا گیا، کیا بعید ہے کہ پاکستان سے اپنا جوہری پروگرام لپیٹ دینے کو کہہ دیا جائے۔ ایسی صورت میں اس حکومت کے پاس کیا سفارتی اور دفاعی حکمت عملی ہوگی جو ایک پڑوسی ملک کی تسلیم شدہ حکومت کے سفیر کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول نے کر سکے۔ جو ایک ’دوست‘ ملک کے اندر اپنے سفارتخانے میں ٹیلی فون سننے کے آلات نصب کرنے کے خلاف محض اتنا ہی کہے کہ ’اگر جواب نہ دیا گیا تو تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔‘ اور دوسری طرف سے مسلسل خاموشی پر ہی اکتفا کیا جائے۔ یہ مشاہدے کی بات ہے کہ مکڑی، مکھی پر لپکنے اور اسے اپنا شکار بنانے سے پہلے کچھ دوری سے ہی اس پر اپنے لعاب کے تار پھینک کر اسے بے بس کر دیتی ہے اور جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب شکار کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے تو اسے دبوچ لیتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||