| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’قربانی کابکرا بنایاجارہا ہے‘
پاکستانی ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹر قدیر خان کی صاحبزادی نے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے معاملے میں ان کے والد کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں جہاں اور سائنسدانوں سے اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان سے کسی نے ذاتی لالچ میں ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے راز فراہم کر دیے ہوں گے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر خان کی بیٹی کا کہنا ہے کہ ’وہ (یعنی ڈاکٹر قدیر خان) اس صورتِ حال سے خوش نہیں ہیں اور ان کے خیال میں ان کے گھرانے میں یہ احساس انتہائی واضح ہے کہ ان کے والد کو بعض دوسرے لوگوں کی خاطر قربانی بکرا بنایا جا رہا ہے۔‘ دینا خان کا کہنا ہے کہ انہیں انتظار ہے کہ آئندہ کیا ہوتا ہے۔ اس وقت صورتِ حال غیر یقینی ہے اور ہمیں نہیں پتہ کہ پوچھ گچھ کے دوسرے دور کے بعد کیا ہوگا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے منگل کے روز ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر کوئی پاکستانی سائنسدان کسی ملک کو ذاتی مفاد یا لالچ کی خاطر ایٹمی معلومات اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نےکہا کہ انٹرنیشل اٹامک انرجی کمیشن اور ایران سمیت بعض ممالک نے کچھ سائنسدانوں کے متعلق شبہ ظاہر کرتے ہوئے جو معلومات فراہم کی ہے اس کی بنا پر تحقیقات ہورہی ہےـ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت بعض سائنسدانوں سے اس ضمن میں پوچھ گچھ ہورہی ہے۔ تاہم ڈاکٹر قدیر خان سے روایتی تفتیش نہیں ہو رہی ہے۔ جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ جب پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ (این پی ٹی) اور سی ٹی بی ٹی جیسے معاہدوں پر دستخط نہیں کئے تو پھر ٹیکنالوجی کی کسی کو منتقلی کیوں نہیں کرتا تو مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کا اپنا قانون ہے جس کے مطابق کسی کو ٹیکنالوجی منتقل نہیں کی جاسکتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||