| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہوٹہ کے دواعلٰی افسر زیرِ حراست
پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق ادارے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری (کے آر ایل) کے دو اعلیٰ سائنسدانوں کو مبینہ طور پر ایران کو جوہری معلومات فراہم کرنے کہ شبہے میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بی بی سی آن لائن کے مطابق پاکستان کی حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سائنسدانوں کی مبینہ سرگرمیوں کے بارے میں مغربی مملک نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ابھی تک سرکاری سطح پراس خبر کی پورے طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ تاہم زیر حراست ڈائریکٹر فاروق محمد کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ یکم دسمبر سے ڈیوٹی پر نہیں ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر اظہر الٰہی نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوۓ لاہور کے ایک اخبار کو بتایا کہ فاروق محمد کو کچھ امور کی تصدیق کرنے کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ لاہورسے شائع ہونے والے اس اخبار نے دعوی کیا ہے کہ کہوٹہ لیبارٹری کے ایک اور افسر ڈاکٹر یٰسین چوہان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ان پر بھی ایران کے نیوکلئیر پروگرام کے لئے معلومات فراہم کرنے کا شبہ ہے۔ ان دونوں سائنسدانوں نے سن انیس سو اٹھانوے کے کامیاب جوہری تجربات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر یٰسین اور ڈاکٹر چوہان، کے آر ایل میں یورانیم کی افزودگی کے شعبے میں بالترتیب ڈائریکٹر اور لیبارٹری ڈائریکٹر ہیں۔ حزبِ اختلاف کے ارکان نے کہا ہے کہ ان افراد کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ایما پر حراست میں لیا گیا ہے۔ حزب مخالف کے سینیٹرز نے اس اقدام پر احتجاجی طور پر پارلیمان کے اجلاس سے واک آٰٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سائنسدانوں کی حراست ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک بیان میں اگرچہ اس خبر کی تصدیق تو نہیں کی گئی ہے تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ نیوکلئیر ریاستوں میں یہ عام بات ہے کہ اس طرح کے حساس پروگرام سے وابستہ لوگوں کو سخت ڈی بریفنگ سیشنز میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کے ایک اور نیوکلئیر سائنسدان بشیرالدین محمود کو اڑھائی سال پہلے امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملہ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر اسامہ بن لادن اور القاعدہ تنظیم سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ وہ اب بھی اپنے گھرمیں ایک غیراعلانیہ نظر بندی میں رہ رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||