ڈاکٹر قدیر خان کے دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر قدیر خان، جنہیں پیار سے بابائے اسلامی بم کہا جاتا ہے، ایک مدت سے چھوٹے موٹے دھماکے کرتے آئے ہیں۔ یہ دھماکے اُس بڑے دھماکے کے علاوہ ہیں جس کے بدولت پاکستان ایٹمی ممالک کی فہرست میں شان و شوکت سے جلوہ افروز ہوا۔ مثال کے طور پر 1986 میں پاکستان کے شہری یہ جان کر ششدر رہ گئے کہ ایک بھارتی صحافی کلدیپ نیئر، انکے سب سے اہم سائنسدان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ مگر نجانے کیوں، اس ملاقات کا زیادہ نزلہ کلدیپ نیئر اور قدیر خان کو یکجا کرنے والے مشاہد حسین پر ہی گرا۔ یاد رہے مشاہد حسین اس وقت صحافی تھے۔
یہ اس زمانے کی بات ہے کہ جب قدیر خان یہ کہا کرتے تھے کہ انکے کام کا کوئی عسکری مقصد نہیں ہے۔ اب جب کہ وہ پاکستان کے ایٹمی بم کے خالق کے طور پر ایک ممتاز مقام حاصل کر چکے ہیں، ان کے عالمی اور قومی امیج میں ایک واضح تضاد ہے۔ چند ہفتے پہلے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات سے قطعی حیران نہیں کہ انکے مخالفین ان پہ کیا الزامات لگاتے ہیں۔ ’ان لوگوں نے تو خدا اور اسکے پیغمبروں کو بھی نہیں بخشا۔ یہ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔۔۔ کیونکہ میں نے اِن کے تمام سٹریٹجک پلان ڈسٹرب کر دیئے ہیں۔‘ ایسے بہت سے انٹرویو ہیں جن میں ڈاکٹر قدیر پاکستانیوں کی خود سے عقیدت کا ذکر بڑے زور دار طریقے سے کرتے نظر آتے ہیں۔ جب ڈاکٹر قدیر اپنے منصوبے پر کام کر رہے تھے تو ہالینڈ کی ایک عدالت ان کے خلاف ہالینڈ میں ملازمت کے دوران وہاں سے ایٹمی افزودگی کی ٹیکنالوجی کو پاکستان منتقل کرنے کی وجہ سے تحقیقات کر رہی تھی۔ 1983 میں ان کی عدم موجودگی میں ہالینڈ کی عدالت نے انہیں چار برس کی قید کی سزا سنا دی۔ اس سزا کو بعد میں اپیل کے بعد ختم کر دیا گیا۔ ڈاکٹر قدیر ناخواندگی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد کے منصوبوں میں میانوالی میں ایک پولیٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اور کراچی میں ایک جینیٹک انجینئرنگ انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی شامل ہے۔ اسکے علاوہ وہ بہت سے تعلیمی اداروں کے بورڈ آف گورنر کے ممبر ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ’ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کیونکہ میں نے ایٹمی بم بنایا ہے لہذا میں کوئی ظالم شخص ہوں۔ یہ بات نہیں ہے۔ میرے پاس کئی بندوقیں ہیں مگر میں نے آج تک پرندہ بھی نہیں مارا۔۔۔ میں نے امن کا ہتھیار بنایا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||