BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 January, 2004, 21:25 GMT 02:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی

ڈاکٹر قدیر خان
یہ اکتوبر سن چّون کی بات ہے ۔

عین اس روز جب اس زمانہ کے پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وہایٹ ہاوس میں امریکی صدر آیزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لئے جوہری توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

یہ آغاز تھا پاکستان کے جوہری پروگرام کا یا دراصل یہ پاکستان کی طرف سے پیمان تھا کہ وہ جوہری توانائی، اسلحہ کی تیاری کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔

مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں پاکستان میں اس مسئلہ پرکافی لے دے ہوئی تھی کیونکہ بہت سے مبصرین کے نزدیک صدر آیزن ہاور کا ایٹم برائے امن کے منصوبہ کا اصل مقصد امریکہ کے علاوہ دنیا کےدوسرے تمام ملکوں کو جوہری اسلحہ کی صلاحیت سے محروم رکھنا اور ان پر قدغن لگا کر انہیں جوہری اسلحہ کی تیاری سے روکنا تھا۔

بالکل اسی طرح جس طرح آج کل جوہری اسلحہ کے پھیلاو کو روکنے کے لئے معاہدہ سی ٹی بٹی کو کاری وار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی طرف سے آیزن ہاور کے اس منصوبہ کو تسلیم کرنے پر پاکستان میں بہت سے لوگوں کا ماتھا ٹھنکا تھا کیونکہ یہ آغاز تھا پاکستان کی طرف سے امریکہ کے قدموں میں خود سپردگی کا۔

اسی کے فورا بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی ، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں ہمہ گیر قربت اور تعاون کا دور شروع ہوا۔

اسی سال پاکستان امریکہ کے دو فوجی معاہدوں ”سینٹو” اور ”سیٹو” میں شامل ہوا اور امریکہ نے بھاری فوجی اور اقتصادی امداد کے عوض پاکستان کی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کئے تھے اور اپنے فوجی صلاح کار پاکستان بھیجے تھے اور اسی کے ساتھ پاکستان کے پانچ سالہ اقتصادی منصوبہ کی تیاری کے لئے امریکہ نے اپنے ماہر پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن میں تعینات کئے تھے۔ یوں امریکہ نے پاکستان کو مکمل طور پر اپنے حصار میں لے لیا تھا۔

اس انداز سے پاکستان پر امریکہ کے اثر کی مکمل گرفت کا نتیجہ یہ رہا کہ اس زمانہ میں پاکستان کی قیادت نے ایک لمحہ کے لئے بھی جوہری اسلحہ کی تیاری کے بارے میں نہیں سوچا۔ عام طور پر اس وقت امریکہ کے دفاعی معاہدے جارحیت کے تدارک کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔

سن ساٹھ کی دہائی میں یہ خبریں آنی شروع ہوگئی

جوہری پروگرام چار دہائیوں پر محیط ہے
جوہری پروگرام چار دہائیوں پر محیط ہے
تھیں کہ ہندوستان بڑی تیزی سے جوہری تجربات کی سمت بڑھ رہا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی قیادت نے جوہری اسلحہ کے میدان میں قدم رکھنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

سن چونسٹھ میں ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے انتقال پر جب پاکستان کی طرف سے تعزیتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے دذوالفقار علی بھٹو دلی آئے تھے تو میں وہیں تھا۔

مجھے یاد ہے کہ اس موقع پر ان سے طویل ملاقات میں ہندوستان میں جوہری توانائی کے شعبہ میں پیش رفت پر بات ہوئی تھی اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ پاکستان جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لئے کیا کر رہا ہے تو ذوالفقار علی بھٹو نے مجھ سے یہ پیمان لے کر کہ میں یہ راز افشا نہیں کروں گا انکشاف کیا تھا کہ سن تریسٹھ میں انہوں نے کابینہ میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری کے لئے پروگرام شروع کرنا چاہئے، لیکن صدر ایوب خان اور ان کے امریکہ نواز وزیر خزانہ محمد شعیب اور دوسرے وزیروں نے ان کی یہ تجویز یکسر مسترد کر دی اور واضح فیصلہ کیا کہ پاکستان جوہری اسلحہ کرنے کی صلاحیت حاصل نہیں کرے گا۔

سن اڑسٹھ میں جب صدر ایوب خان فرانس کے دورے پر آئے تھے تو میں ان کا دورہ کور کرنے کے لئے پیرس گیا تھا۔ اس موقع پر فرانسسی صدر چارلس ڈی گال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیش کش کی تھی لیکن ایوب خان نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔

یہ مشورہ انہیں ان کے چیف آف اسٹاف جنرل یحیی خان ، صدر ایوب کے اعلیٰ سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام اور منصوبہ بندی کمیشن کے نائب سربراہ ایم ایم احمد نے دیا تھا جن کے سروں پر امریکہ کا ہاتھ تھا۔

اس میں شک نہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جو سن اکہتر میں بنگلہ دیش کی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد بر سر اقتدار آئے تھے ،جنہوں نے پاکستان کو جوہری قوت بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔

صدر کے عہدہ پر فائز ہونے کے فوراً بعد بھٹو نے ایران، ترکی، مرکش، الجزائر ، تیونس، لیبیا ، مصر اور شام کا طوفانی دورہ کیا تھا۔ میں اس دورہ میں ان کے ساتھ تھا۔ اس دورہ کے دو اہم مقاصد تھے۔

ایک مقصد مسلم ممالک سے تجدید تعلقات تھا اور دوسرا پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے مسلم ملکوں کی مالی اعانت حاصل کرنا تھا۔ دمشق میں اپنے دورہ کے اس سلسلہ کے اختام پر انہوں نے شام کے صدر حافظ الاسد سے کہا تھا کہ ان کا یہ دورہ نشاتہ ثانیہ کے سفر کا آغاز تھا اور پاکستان کی مہارت اور مسلم ممالک کی دولت سے عالم اسلام جوہری قوت حاصل کر سکتا ہے۔

اس دورہ کے فورا بعد انہوں نے سن تہتر میں پاکستان کے جوہری اسلحہ کی صلاحیت حاصل کرنے کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کو تبدیل کیا اور اعلی سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کو برطرف کر کے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو پاکستان بلا بھیجا۔

پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے انہوں نے فرانسسی حکومت کو جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پرانی پیشکش کی تجدید کے لئے آمادہ کیا۔ بھٹو جوہری پروگرام میں جس تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے اسے امریکہ نے قطعی پسند نہیں کیا اور اس زمانہ کے وزیر خارجہ کیسنجر نے تو کھلم کھلا دھمکی دی تھی کہ اگر بھٹو نے ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ کے منصوبہ پر اصرار کیا تو وہ نہ رہیں گے۔

اور آخر کار سن ستتر میں بھٹو نہ صرف اقتدار سے معزول کردئیے گئے بلکہ اناسی میں سولی پر چڑھا دئے گئے۔

لیکن بھٹو نے جوہری صلاحیت کا جو پروگرام شروع کیا تھا اس پر تحقیقی کام جاری رہا۔ اور پاکستان کے سائنس دانوں نے کہوٹہ کی تجربہ گاہ میں جس میں سن چہتر میں یوینیم کی افزودگی کا کام شروع ہوا تھا پہلی بار اس میں کامیابی سن اٹہتر میں حاصل کر لی اور سن بیاسی تک وہ نوے فی صد افزودگی کے قابل ہو گئے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق پاکستان کے جوہری سائنس دانوں نے سن چوراسی میں جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی اور انہوں نے جنرل ضیاالحق سے کہا تھا کہ وہ کھلم کھلا پاکستان کی طرف سے جوہری بم کی تیاری کے عزم کا اعلان کریں لیکن ان کے امریکی نواز وزیر خارجہ اور دوسری وزیروں نے سخت مخالفت کی۔

آخر کار مئی سن اٹھانوے میں جب ہندوستان نے جوہری تجربات کئے تو پاکستان کے لئے کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ وہ بھی جوہری تجربات کرے اور یوں پاکستان بھی جوہری طاقتوں کی صف میں شامل ہوگیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد