سو لوہار کی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی دلائل میں حقیقت پسندی کی جھلک دیکھ کر پاکستان نے جس پھرتی سے اپنی افغان پالیسی بدلی اس سے شبہ ہونے لگا تھا کہ اور بھی بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے ملک کے سینئیر ترین سائنسدانوں پر ایٹمی پروگرام کی منتقلی کا شک ظاہر کئے جانے سے تسلی ہونے لگی ہے کہ پاکستان میں باقی سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا ہمیشہ سے رہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی نظام کا راستہ فوج کی کالی بلی نے اتنی مستقل مزاجی سے کاٹا ہے کہ ہر قومی ادارے پر بدقسمتی کی مہر لگ چکی ہے۔ جن اداروں میں جمہوری روایات پنپ نہ سکیں اور پالیسی سازی مسلسل شخصی پسند و ناپسند کی محتاج رہے وہاں اقدار کا تسلسل بھی ٹوٹتا ہے اور عمل نہیں صرف رد عمل رہ جاتا ہے۔ اور یہی پاکستان کی ایٹمی پالیسی کا بھی بنیادی ستون ہے۔ چنانچہ سن چوہتر میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو دو ہی سال بعد بھارت ہی کے دھماکے کو بنیاد بنا کر پاکستان نے اپنے جوہری پروگرام کا آغاز کر دیا۔ برسوں بعد سن اٹھانوے میں بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کئے تو پاکستان نے ایسے کا تیسا کے مصداق اس سے ایک زیادہ دھماکہ کر دکھایا۔ اس کے بعد میزائیلوں کی دوڑ شروع ہو گئی جس میں بھارت مصرعہ طرح دیتا رہتا ہے اور پاکستان اس کا جواب۔ ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے کی عالمی دستاویز سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے سے بھارت اور پاکستان دونوں کو انکار رہا ہے۔ تاہم بھارت کے انکار کی وجہ ایک اصول ہے جبکہ پاکستان کی وجہ صرف اور صرف بھارت ہے۔ ایک مضبوط پالیسی اور اسے چلانے کے لئے عمدہ حکمت عملی کے فقدان کی وجہ سے یہ بالکل ممکن ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاالحق نے مسلم ممالک سے ایٹمی تحقیق کے نام پر پیسہ لیتے ہوئے ان سے ایسے وعدے بھی کئے ہوں جو آج کے ماحول میں امریکہ کی ناراضگی کا باعث ہوتے۔ اس قسم کی باتیں جنرل ضیا تو ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کا ایٹم بم پوری مسلم امت کا ایٹم بم ہو گا۔ ماضی قریب میں پاکستان کی حکومت ایسے ہاتھوں میں بھی رہی جنہوں نے بغیر کسی عدالتی کارروائی کے اور بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ایک غیر ملک (امریکہ) کے فوجیوں کو یہ اجازت دی کہ وہ ایک پاکستانی شہری کو پاکستان سے اغوا کر کے، جہاز میں ڈال کر امریکہ لے جائیں۔ کیا ایسے حکمران کسی اور کی دھمکی یا لالچ میں آ کر، یا اپنے محسن جنرل ضیا کے الفاظ کی لاج رکھنے کے لئے ایک آدھ ٹن ایٹمی مواد ملک سے باہر نہیں بھجوا سکتے؟ پھر جس قوم کو ذہنی پستی کے اس مقام تک لے جایا گیا ہو جہاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا اسلحہ بنا پانے پر لوگ خوشی مناتے ہیں وہاں کیا عجب کہ کوئی سائنسدان خود ہی اسلام کی سربلندی یا اسی طور کے کسی نظریاتی مقصد کی خاطر ایٹمی پوٹلیوں کا ٹوکرا سر پر رکھ کر تہران، بغداد اور طرابلس کی گلیوں میں صدا لگاتا رہا ہو: ایٹم بم لے لو - - - لیکن ان میں سے کوئی بھی اس قسم کا کام فوج کی اعانت کے بغیر نہیں کر سکتا تھا۔ اور صرف اعانت ہی کیوں، جب فوج میں جہادی اور طالبان قسم کے عناصر ہو سکتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ انہی میں سے کسی نے اسلامی دنیا کو ایٹمی طاقت بنانے کا منصوبہ بنایا ہو، اور اس پر عملدرامد کی راہ بھی دکھائی ہو۔ خیر یہ تو سب امکانی باتیں ہیں، لیکن بقول شاعر ’بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘ لہذا ایران کے ایٹمی پروگرام سے بات چلی تو شمالی کوریا، لیبیا، عراق، سبھی کے کردہ اور ناکردہ ایٹمی جرائم کا سہرا پاکستان کے سر تھوپا جانے لگا ہے۔ اور پاکستانی حکومت اس سے کیسے نمٹ رہی ہے؟ سائنسدانوں اور ان کے معاونین کو گھر سے اٹھا لیجا کر ! ایٹمی توانائی کے مبینہ پھیلاؤ کے انتہائی سنجیدہ سوال پر بھی کوئی کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانے کی بجائے ایسا رد عمل ظاہر کیا گیا ہے جو پنجاب کا کوئی تھانیدار ہی سوچ سکتا ہے۔ آخر مشرف حکومت ان لوگوں سے کیا اگلوانا چاہتی ہے؟ جو کچھ وہ بتا سکتے ہیں وہ فوجی کمان کو پہلے سے معلوم ہونا چاہئے اور جو وہ نہیں بتائیں گے وہ جرنیلوں کے لئے باعث شرمندگی ہو گا، کیونکہ ایٹمی پروگرام ہمیشہ سے ان کی کڑی نگرانی میں رہا ہے۔ اگر شفاف طریق کار سے حقائق جاننا ہی مقصود ہوتا اور یہ ایٹمی پروگرام فوجیوں کی بجائے اس ملک کے عوام کی ملکیت تسلیم کیا جاتا تو سپریم کورٹ بار کے مشورے کے مطابق یہ انکوائری عدلیہ کی نگرانی میں کروائی جاتی، نا کہ خفیہ اداروں کے نامعلوم تفتیشی مراکز میں، جن سے عوام کو سازشوں کی بدبو اور اذیت کے تعفن کے علاوہ کبھی کچھ نہیں ملا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||