| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری تفتیش سے ہلچل
پاکستان میں جوہری ٹیکنالوجی کی غیر قانونی فروخت کے سلسلے میں جوہری سائنسدانوں سے کی جانے والی تحقیقات نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ ان دنوں ایران اور لیبیا جیسے ممالک کو جوہری معلومات، یہاں تک کے جوہری ساز و سامان کی ممکنہ منتقلی کے عوض پاکستان کے چند سائنسدانوں کو اربوں ڈالر کی ادائیگیوں کے معاملے کو زور و شور سے اچھال رہے ہیں۔ دوسری جانب زیر حراست سائنسدانوں کے اہل خانہ اور اور حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سرکاری پشت پناہی میں چلائی جانے والی ایک باقاعدہ مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ان لوگوں کو بدنام کرنا ہے جن کا محض چند ماہ قبل تک ہی ’قومی ہیروز‘ کے طور پر احترام کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن ان انکشافات نے ایک ’ذمہ دار جوہری طاقت‘ کے طور پر پاکستان کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے نتیجے میں سوائے جوہری بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اب تک کی تحقیقات ملک کے ’بابائے جوہری پروگرام‘ کہلائے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گرد گھومتی رہی ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے مغرب سے چوری چھپے جوہری معلومات کے حصول کے بعد کوئی تین دہائی قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہوٹہ کے مقام پر یورینیئم افزودہ کرنے والے ملک کے پہلے پلانٹ کی بنیاد رکھی۔ اب تک تو ان معاملات پر یا اس مال و دولت اور جائیداد کے انبار پرجو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ملکیت رہے ہیں یا ان لاکھوں روپوں پر جو انہوں نے اپنی شخصیت سازی پر خرچ کیے ہیں، کوئی تبصرہ کرنا ’حب الوطنی کے برخلاف‘ تصور کیا جاتا تھا لیکن حالیہ چند ہفتوں میں صورتحال بالکل ہی الٹ کر رہ گئی ہے۔ اب وہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان، اسلام آباد میں واقع اپنے گھر میں نظر بند ہیں، جس کے باہر پہرے پر موجود اہلکار ان کی حفاظت کے لیے وہاں تعینات نہیں ہیں بلکہ ان کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی کے لیے انہیں گھیرے میں لیے ہیں۔ حکام کہتے ہیں غیر قانونی جوہری پھیلاؤ میں خود ان کے کردار کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر قدیر، جنہیں ہمیشہ فوج کی انتہائی مالی اور افسرانہ حمایت حاصل رہی ہے، کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ خان ریسرچ لیبررٹریز میں ان کے بعض انتہائی قریبی رفقاء اور ساتھیوں کو بھی کسی جوہری پھیلاؤ کے بارے میں ان کے کردار سے متعلق زبردست تفتیش کا سامنا ہے۔ ان ساتھیوں میں سابق ڈائریکٹر جنرل محمد فاروق، چیف نیوکلیئر انجینیئر ڈاکٹر نذیر احمد کے علاوہ وہ کئی فوجی افسران بھی شامل ہیں جو ملک کی جوہری تنصیبات کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ اگرچہ ان میں سے چند، مثلاً یاسین چوہان جیسے لوگوں کو گھر واپس بھیجا جاچکا ہے مگر حکام کا کہنا ہے کہ ان میں کسی کو بھی اب تک مکمل طور پر بری قرار نہیں دیا گیا۔ ان تحقیقات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب بین الاقوامی دباؤ میں ایران نے اپنی جوہری تنصیبات اور یورینیئم کی افزودگی کے بارے میں تفصیلات بتانے رضامندی کا اظہار کیا۔ ان تفصیلات سے ہی یہ بات سامنے آئی کے ایران نے بعض پاکستانی سائنسدانوں کی مدد سے غیر قانونی بین الاقوامی جوہری منڈی سے ہی جوہری ٹیکنالوجی یا معلومات حاصل کیں۔ لیبیا نے بھی، جو اپنے جوہری پروگرام کی تنسیخ کا اعلان کرچکا ہے، جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کے سامنے اس سلسلے میں کسی پاکستانی رابطے کا اعتراف کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب آئی اے ای اے نے اس سلسلے میں اسلام آباد سے رابطہ کرکے جواب طلب کیا تو یہ حکام کے لیے ایک انتہائی مشکل صورتحال تھی کہ وہ حقیقیت جان سکیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس اب تک جوہری عدم پھیلاؤ کو روکنے کے ہی اقدامات کرتا رہا ہے۔ خود کو اس ساری صورتحال سے بری الذمہ قرار دلوانے کے لیے پاکستان نے خود اپنے تفتیش کار ایرانی دارالحکومت تہران اور لیبیا کے دارالحکومت طرابلس بھیجے اور ساتھ ہی ویانا میں آئی اے ای اے کے ساتھ گفت و شنید کا آغاز کیا۔ انتہائی خفیہ طور پر اب تک کی جانے والی تمام تحقیقات ملک کا سب سے زیادہ بااختیار خفیہ ادارہ انٹر سروسز انٹیلیجینس (آئی ایس آئی) کرتا رہا ہے اور ملک کی جوہری تنصیبات میں انیس سو اسی اور انیس سو نوے کی دہائیوں میں ہونے والی کسی بھی خفیہ سرگرمی کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہوسکی ہیں۔ انیس سو اٹھانوے میں جوہری دھماکہ کرنے کے بعد سے اب تک پاکستان سرکاری طور پر یہی کہتا رہا ہے کہ جوہری پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ایک ترجمان کے مطابق اب ان تحقیقات کا دائرہ چند سائنسدانوں تک ہی محدود ہوگیا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ بعض افراد ماضی میں کسی لالچ کے تحت جوہری پھیلاؤ میں ملوث رہے ہوں۔ لیکن اس سلسلے میں کسی ممکنہ عوامی ردعمل سے گریز کرتے ہوئے حکام بعض مخصوص خبریں ہی ذرائع ابلاغ تک پہنچنے دے رہے ہیں تاکہ جوہری پھیلاؤ میں ملوث کسی سائنسداں کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ کہنے یا کسی انکشاف سے قبل اپنے حق میں ماحول پیدا کرسکیں۔ ان خبروں سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ سارا کھیل تب شروع ہوا جب بینن الاقوامی پابندیوں میں جکڑا ہوا پاکستان، خود اپنے ہی خفیہ جوہری پروگرام کے لیے بھی غیر قانونی بین الاقوامی منڈی سے معلومات اور ٹیکنالوجی حاصل کررہا تھا۔ اسی زمانے میں بعض افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ان معلومات کا نچوڑ لیبیا اور ایران جیسے ممالک کو دینے پر مائل ہوئے۔ مگر کئی لوگ ملک کے جوہری تنصیبات کے ڈھانچے کو بھی اس میں ملوث کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ان معلومات یا ٹیکنالوجی کی منتقلی حکومت یا انتہائی مقتدر شخصیات کے تعاون کے بغیر مملکن نہیں ہوسکتی تھی۔ ان میں سے بعض افراد فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ کی جانب بھی انگلیاں اٹھاتے رہے ہیں جو خود اب تک اس سلسلے میں کسی بھی الزام سے انکاری رہے ہیں۔ اور یہ صدر پرویز مشرف اور ان کی حکومت کے لیے انتہائی نازک صورتحال ہے۔ صدر مشرف اور حکومت دونوں ہی اس ساری صورتحال میں پاکستان کو جوہری پھیلاؤ کی کسی ذمہ داری سے بچانا چاہتے ہیں لیکن کسی بھی سائنسدان کے خلاف سرعام مقدمہ بھی نہیں چلایا جاسکتا کیونکہ اس سے خود پاکستان کی ان خفیہ سرگرمیوں پر سے پردہ اٹھ جائے گا جو وہ ماضی میں کرتا رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر پاکستان اعلیٰ ترین سائنسدانوں کے ملوث ہونے کو تسلیم کرلیتا ہے تو اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرنے کے لیے مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا اور اپنی جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی برادری کے سامنے لانا ہوگا۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ بھی متوقع نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||