امریکہ کی تردید، ہرش کا اصرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صحافی سیمور ہرش نے کہا ہے کہ وہ اپنی اس رپورٹ پر قائم ہیں جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی فوجی ایران کے خلاف خفیہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان بش انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان کے بعد دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہرش کی رپورٹ بعید از قیاس باتوں اور غلطیوں سے پُر ہے۔ اِس سے پہلے یہ رپورٹ امریکی جریدے نیویارکر میں بھی شائع ہوچکی ہے۔ امریکہ کی ایران کے خلاف مبینہ کارروائی کے متعلق ایرانی پارلیمان کے سابق رکن ڈاکٹر رجائی خراسانی نے بی بی سی کو اپنا ردعمل بتاتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں امریکی انتظامیہ اِس مرتبہ کوئی غلطی نہیں کرے گی اور دراصل یہ سارا معاملہ امریکی عوام کی توجہ اِس صورتحال سے ہٹانے کا ہے جو امریکی فوج کو عراق میں درپیش ہے اور اس کی ایک اور وجہ امریکہ پر اندرونی دباؤ بھی ہے‘۔
ہرش کے اس مضمون کے حوالے سے پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکی افواج کی مدد نہیں کر رہا اور یہ کہ ہرش کی رپورٹ میں بے بنیاد حقائق کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔ سیمور ہرش کی رپورٹ کے حوالے سے امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات مہیا کرنے کی تردید کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا کہ ’پاکستان امریکہ اور کسی بھی عالمی ایجنسی کو ایسی کوئی معلومات مہیا نہیں کر رہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں کیا کر رہا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہماری معلومات بہت محدود ہے۔ اور جوہری معاملات میں ہماری حکومت کا ایرانی حکومت سے کوئی رابطہ بھی نہیں ہے‘۔ سمیور ہرش نے رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ امریکی اسپیشل فورس کے ارکان ایران کی ایٹمی، کیمیائی تنصیابات اور میزائیلوں کے ٹھکانوں کی نشاندھی کر رہے ہیں۔ نیو یارکر میں اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد امریکی محکمہ دفاع نے ایک تفصیلی بیان جاری کیا جس میں اس رپورٹ کو موضوع بنایا گیا۔ تاہم واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس تردید میں کہیں بھی اس رپورٹ کی مکمل طور پر تردید نہیں کی گئی اور نہ یہ کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ایرانی حدود میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ ہرش نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر واضح طور سمجھتے ہیں کہ حالیہ انتخابات میں ان کی کامیابی ان کی ان پالیسیوں کا نتیجہ جو انہوں نے عراق میں اپنائی ہیں اور ’جمہوریت‘ کے لیے ان کے اس پروگرام میں پہلے عراق اور اس کے بعد ایران ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||