عراق:’بدسلوکی رمزفیلڈ کی شہ پر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی جریدے نیو یارکر نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے ذاتی طور پر ایسا خفیہ پروگرام شروع کیا ہے جو عراقی قیدیوں سے بد سلوکی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ معروف امریکی صحافی سیمور ہرش نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ڈونلڈ رمزفیلڈ نے ایسے پروگرام کو آگے بڑھایا جو افغانستان میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف پہلے ہی استعمال ہو رہا تھا۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ پروگرام کے تحت عراق میں امریکی فوج کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحت کے بارے میں معلومات کے حصول کے لئے قیدیوں کو جسمانی تکلیف اور جنسی ذلت پہنچانے کے حربے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ واشنگٹن میں پینٹاگون حکام نے ان الزامات کو بےبنیاد اور غلط قرار دیا اور کہا کہ مضمون میں غلطیاں ہیں، نامعلوم ذرائع استعمال کئے گئے اور یہ سازش معلوم ہوتا ہے۔ امریکی صدر بش نے قدیوں سے بدسلوکی کے واقعات کو کچھ فوجیوں کا ذاتی فعل قرار دیا ہے اور ان الزامت کی تردید کی کہ ایسا کسی نظام کے تحت کیا گیا۔ عراقی قیدیوں سے بدسلوکی کرنے والی ایک فوجی خاتون لِنڈی انگلینڈ نے کہا تھا کہ انہوں نے قیدیوں پر تشدد اعلی حکام کے حکم پر کیا تھا۔ عراق کے علاوہ افغانستان میں بھی قیدیوں سے بدسلوکی کے واقعات سامنے آئے ہیں اور امریکی حکام کم از کم ایسے دو واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||