ایٹمی تنازعہ: سوالات و جوابات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات فروری بروز سنیچر کو نشر ہونیوالے بی بی سی اردو سروِس کے پروگرام سیربین میں پاکستان کے سابق صدر فاروق احمد لغاری، فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ، سابق وزیر اطلاعات اور سینیٹر مشاہد حسین اور ایٹمی سائنسدانوں کے نمائندے ڈاکٹر شفیق نے ڈاکٹر عبدالقدیر اور ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بارے میں ہمارے قارئین کے سوالوں کے جواب دیے۔ یہ خصوصی پروگرام لندن سے شفیع نقی جامعی نے پیش کیا۔ خان ظلا خان، کویت: حالیہ صورت حال سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی حکومت کے علم میں پہلے سے ہی تھی۔ اس تناظر میں میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا دانستہ طور اس کی ذمہ داری ڈاکٹر قدیر پر ڈالی جارہی ہے؟ مرزا اسلم بیگ: یہ تمام الزامات پاکستان کے خلاف ایک سازش ہیں۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ بھارت کے ماہرین حال ہی میں پاکستان آئے، خصوصا (امریکی صحافی) سیمور ہرش نے یہ کہا کہ بھارت پچھلے پندرہ برس سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر نظر رکھے ہوئے ہے اور بھارت جانتا ہے کہ سن اٹھاسی میں کیا ہوا، سن نواسی میں کیا ہوا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ تمام پیش رفت دو ہزار تین تک جاری رہی۔ میں نے کہا ’تم پر لعنت ہے کیونکہ اس جرم میں تم بھی برابر کے شریک ہو، مجرم ہو، کیونکہ تمہیں گزشتہ پندرہ برس سے یہ سب معلوم تھا لیکن تم نے ہم پر یہ ظاہر نہیں کیا۔‘ اگر اس وقت بتادیتے جب ہم بھی وردی میں تھے، بینظیر بھٹو کو بتاتے، نواز شریف کو بتاتے، اور سن نناوے میں جنرل پرویز مشرف کو بتاتے، لیکن آپ نے یہ سب کچھ چھپاکر رکھا۔ اس سے ’سازش کی بو‘ آتی ہے اور یہ بات حقیقت بن کر سامنے آتی ہے کہ اس تمام اقدام کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان پر ہر طرف سے دباؤ ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے بڑا مجرم ہے، لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اس جرم میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔ کیونکہ وہ برملا یہ کہتے آئے ہیں کہ گزشتہ پندرہ برس سے ان کے جاسوس اس نیٹ ورک کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ ’بے شک ملے تھے، مگر ہمیں بتا تو دیتے کم بختو۔‘ تو صورتحال آپ کے سامنے ہے، اگر ہمیں یہ بتادیا جاتا تو ہم اسے روکنے کی کوشش کرتے، سزا دیتے۔ یہ ایک سازش ہے کیونکہ آپ نے سنا ہوگا کہ چند برس پہلے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائرکٹر نے بھارتی صدر عبدالکلام سے کہا کہ آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور آپ سب دیکھیں گے کہ قدیر خان کو کیسے گلیوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔ فاروق لغاری: دنیا کے تمام ممالک خصوصا سوپر پاورس کے قومی مفادات ان کی ترجیح ہوتے ہیں۔ اس لئے میں یہ کہوں گا کہ تمام ممالک کی طرح ہمارا بھی یہ حق ہے کہ ہم ان کا تحفظ کریں، جاسوسی کریں، اور قومی مفادات کا تحفظ کریں۔ اگر مغربی ممالک کی یہ پالیسی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار ہم جیسے ممالک کے ہاتھ میں نہیں آنے دینا چاہتے تو ہم اس پالیسی پر گامزن تھے کہ پاکستان جوہری پھیلاؤ کے راستے پر گامزن نہیں ہوگا۔ اور اس لئے اگر کسی سائنسدان یا کسی گروہ نے ایسا کام کیا ہے تو اس نے قومی پالیسی کے خلاف کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے پاکستان کے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان کے خلاف کوئی سازش کررہا ہے یا نہیں کررہا، پاکستان کے سائنسدانوں کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ ملکی مفادات کا تحفظ کریں اور وہ اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ اگر کوئی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی کوشش کرے گا تو دنیا کے بہت سے ممالک ایسے معاملات کے ضمن میں پاکستان کے پروگرام پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اور ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان کے لئے خاصے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ہمیں ایٹمی ہتھیار پھیلانے والا گردانا جائے گا۔ اس کے باوجود کہ دنیا کے دیگر ممالک خصوصا امریکہ نے بھی ایسا کیا سائنسدانوں نے امریکہ سے راز افشا کیے، خاص طور پر سب سے پہلے روزنبرگ نے روس کو تفصیلات فراہم کیں۔ اہم بات یہ ہے کہ چونکہ پاکستان کی پالیسی تھی کہ وہ یہ راز افشاء نہیں کرے گا، اس لئے جو کچھ بھی ہوا ہے وہ اس پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ثاقب احمد، بہار، بھارت: ڈاکٹر قدیر نے اعتراف کرتے ہوئے ’نیک نیتی‘ کا جو حوالہ دیا تھا اس سے کیا مراد ہے؟ اور جو سیکیورٹی انتظامیہ اس منصوبے کی حفاظت پر معمور تھی اگر وہ ناکام ہوئی ہے تو کیا اسے سزا دی جارہی ہے؟ اور اگر نہیں دی جارہی ہے تو کیوں؟ مشاہد حسین: موجودہ صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان کی سیکیورٹی انتظامیہ ناکام ہوئی ہے اور اس معاملے کی چھان بین ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر قدیر خان نے نیک نیتی کی بات اس لئے کی کیوں کہ انہوں نے امریکہ اور مغربی ممالک کی مخالفت کے باوجود بہت بڑا کارنامہ انجام دیا تھا۔ اس لئے شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ اگر زیادہ ممالک نیوکلیئر طاقت بن جائیں تو پاکستان پر ڈالے جانے والے دباؤ میں کمی ہوگی۔ مغربی ممالک اصل میں اپنی نیوکلیئر اجارہ داری قائم کرنا چاہتے تھے اور ایک ’گورا کلب‘ بنانا چاہتے تھے۔ لیکن پاکستان نے پچیس برس کی کوششوں کے بعد گیٹ کریش کیا جس کا سہرہ عبدالقدیر خان اور ان کے سائنسدانوں کے سر ہے۔ عام رائے بھی یہی ہے کہ اگر مغربی ممالک کی جوہری اجارہ داری ٹوٹ جاتی تو مسلم ممالک پر دباؤ کم ہوتا۔ اکبر غمشاد بلوچ، مکران، پاکستان: کیا ڈاکٹر قدیر خان صرف اور صرف یہی راز فاش کرنے کے ذمہ دار ہیں؟ کہاجاتا رہا ہے کہ پاکستان کا جوہری نظام مضبوط ہاتھوں میں ہے اور اگر یہ سب مضبوط ہاتھوں میں تھا تو پھر یہ راز دوسرے ممالک تک کیسے اور کیونکر پہنچے؟ کیا اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ یہ مضبوط ہاتھ کسی نہ کسی طرح یہ راز دوسرے ممالک کو منتقل کرنے میں ملوث تھے؟ فاروق لغاری: ہمارے دور اقتدار میں جو کچھ ممکن تھا اتنی سیکیورٹی ہم نے مہیا کررکھی تھی۔ لیکن ایسے منصوبوں میں سائنسدانوں کو بہت زیادہ اختیارات (آٹونامی) دیے جاتے ہیں اور ڈاکٹر قدیر خان کو، جنہوں نے پاکستان کے لئے یقینا بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، بہت زیادہ اختیارات حاصل تھے۔ اگر قدیر خان اور ان کے قریبی ساتھیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کسی بھی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی منتقل کریں گے تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔ اور ایسے معاملات میں انتہائی سخت سیکیورٹی بہت مشکل ہوتی ہے۔ ہمیں اب تک صحیح نہیں معلوم نہیں کیونکہ اب تک جو رپورٹ حکومتِ پاکستان نے مرتب کی ہے وہ ابھی تک صیغۂ راز میں ہے، وہ ابھی برسرعام نہیں آئی ہے اور غالبا کبھی نہیں آئے گی۔ یہ سائنسدان اس پایہ کے تھے کہ وہ کسی چیز کو جسمانی طور ہٹانے کے بجائے بھی بہت سی چیزیں منتقل کرسکتے تھے۔ البتہ جو کچھ بھی ہوا وہ سائنسدانوں کا ذاتی اقدام تھا۔ مرزا اسلم بیگ: پہلے صدر جنرل ضیاء الحق تھے، ان کے بعد بینظیر بھٹو آئیں، اور پھر غلام اسحٰق خان سن چھہتر سے بانوے تک ایٹمی پروگرام سے وابستہ رہے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ لوگ جوہری منصوبے کے تحفظ کے ذمہ دار تھے۔ جنرل مشرف نے بھی کہا کہ سائنسدان صرف وزیراعظم اور صدر کو جوابدہ رہے ہیں۔ اس اعتبار سے چونکہ اب جنرل مشرف ملک کے صدر بھی ہیں، چیف آف اسٹاف بھی ہیں، چیف ایگزیکیوٹِو اور سب کچھ ہیں، اس لئے جنرل مشرف ہی ذمہ دار ہیں۔ ایٹمی سائنسدانوں کے نمائندے ڈاکٹر شفیق: جیسا کہ سابق صدر فاروق لغاری نے کہا کہ سائنسدان کوئی چیز جسمانی طور پر ہٹائے (physically remove) بغیر بھی بہت سے راز افشا کرسکتے تھے، اس بارے میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بہت سے آلات سرے سے ہی پاکستان میں نہیں بنتے، ان کی تخلیق ہی یورپ اور امریکہ میں ہوتی ہے۔ اور جہاں تک نقشوں اور فارمولوں کا تعلق ہے تو وہ بہت سی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان کے حصول کے لئے، ان فارمولوں کو بریف کیس میں بند کرے کہ ادھر ادھر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ بات طے کرنی پڑے گی کہ سائنسدانوں پر اصل الزام ہے کیا؟ کیونکہ راز ایران اور لِبیا کو منتقل کرنے کے لئے بہت سے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔ ایسا تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری (کے آر ایل) کی حدود ختم ہوتے ہی، ایران شروع ہوتا ہو، اگر اس بات کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ بات بھی واضح ہوجائے گی کہ ہوائی اڈوں پر بھی کوئی ایسے جہاز موجود نہیں تھے جو صرف کے آر ایل کے سائنسدانوں کے زیر کنٹرول ہوں کیونکہ ان تمام عوامل کا کنٹرول تو انتظامیہ کے ہاتھ میں تھا۔ مرزا اسلم بیگ: شفیق صاحب کا کہنا ایک حد تک درست ہے کیونکہ جہاں تک آپ کا علم ہے وہ آپ کے ذہن میں ہوتا ہے۔۔۔۔ اور ڈاکٹ قدیر بھی جب ہالینڈ سے پاکستان آئے تو اپنے ساتھ اپنا علم ہی لائے تھی کوئی سینٹریفیوج یا کوئی ڈراوِنگ تو نہیں لائے تھے۔ ڈاکٹر شفیق کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں اگر سی ون تھرٹی (c-130 جہاز) اور دیگر ذرائع استعمال ہوئے ہیں تو تفتیش کا دائرہ وسیع ہونا چاہئے۔ مشاہد حسین: ایک بنیادی بات تو یہ ہے کہ یہ معاملہ مشترکہ ذمہ داری کا ہے اور دوسری بات یہ کہ جو سیکیورٹی کا نظام بنایا گیا تھا وہ ناکام ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پاکستان کا سب سے حساس کامیاب منصوبہ تھا۔ ڈاکٹر شفیق نے ٹھیک کہا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی منتقل کی گئی ہے تو تمام تفصیلات کسٹم حکام، ایئرپورٹ سیکیورٹی اور دیگر مراحل سے ہوکر ہی سرحد سے گزری ہوں گی۔ اس لئے میرے خیال میں یہ ایک جائز سوال ہے۔ اور منصوبے کی منتقلی کی ذمہ داری مشترکہ طور پر عائد ہوتی ہے۔ ہم نے یہ منصوبہ امریکی مخالفت کے باجود چلایا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ایران اور لِیبیا بےشمار سرمایے کے باوجود ایسا منصوبہ چلانے میں ناکام رہے۔ کیونکہ ان کے سائنسدانوں اور ان کی قیادت میں ایسی صلاحیت نہیں تھی کہ ایٹمی اہلیت حاصل کرسکیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||