’ڈاکٹر خان کی حب الوطنی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے ڈاکٹر خان کے اعترافی بیان کو ان کی حب الوطنی اور بڑائی قرار دیا ہے جب کہ اس سارے معاملے پر حکومت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے لیے آنے والے دنوں میں مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے چیرمئین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ حکومت نے ڈاکٹر خان سے ’بلاوجہ کا اعترافی بیان دلواکر اپنے آپ کو مجرم بنالیا گیا ہے‘ ڈاکٹر عبدالقدیر کے اعترافی بیان پر انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی بڑائی کا ثبوت دیا ہے اور اپنے ناکردہ جرائم کا اعتراف کر کے اور اپنے ساتھیوں کی ذمہ داری قبول کر کے انہوں نے جوہری پروگرام کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کو لاحق خطرات اور بیرونی دباؤ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب سے یہ پروگرام شروع ہوا ہے اس وقت سے پاکستان پر بیرونی دباؤ رہا ہے لیکن اگر اس سارے معاملے سے بہتر انداز میں نمٹا جاتا تو سائنسدانوں کی بے عزتی بھی نہ ہوتی اور مخالفین کو بھی کوئی بات کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ انہوں نے اس ضمن میں بھارتی وزیر خارجہ یشونت سہنا کے بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اقبالی بیان سے معاملہ ختم نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا حکومت کو اس معاملے میں مشاورت اور سنجیدگی سے کام لینا چاہیے تھا۔ جاعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے ساتھیوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا صدر مشرف نے ڈاکٹر خان سے اقبالی بیان دلوا کر پاکستان کے لیے زیادہ مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا اسی باعث صدر مشرف جمعرات کے روز اپنی پریس کانفرنس میں پریشان نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اقبالی بیان دے کر پاکستان نے اپنے آپ کو ملزم کے کٹھرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ جوہری پروگرام کو بچانے کا راستہ نہیں اور اپنے آپ کو شکنجے میں ڈالنے کا راستہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||