’ بیگ و کرامت کی ڈی بریفنگ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھی اور جنرل مرزا اسلم بیگ آرمی چیف تھے، اس وقت پاکستان کا ایٹمی پروگرام رول بیک کردیا گیا تھا۔ جمعرات کی شام آرمی ہاؤس راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں جن افراد کو کو زیرِ حراست لے کر انکوائری کی گئی یا ان کی ڈیبریفنگ کی گئی ان میں سائسندانوں کے علاوہ فوج کے دو سابق جرنیل یعنی جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل اسلم بیگ شامل ہیں۔ جنرل اسلم بیگ نے چند ہی دن پہلے اس بات سے انکار کیا تھا کہ ان کی ڈیبریفنگ ہوئی ہے۔ اس سوال پر کہ جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا فوج کو پوری طرح علم تھا، جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے دو ادوار تھے۔ پہلے دور میں جو انیس سو چوہتر سے شروع ہو انیس سو اٹھانوے پر ختم ہوا، جوہری پرگروام کو خفیہ رکھا گیا اور ان اداروں میں جہاں اس قسم کی سرگرمیاں جاری تھیں، حکومت یا فوج کا کنٹرول نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کے انتظامی اور مالی معاملات خود ان کے ذمے تھے اور صرف صدر، فوج کے سربراہ، ڈاکٹر قدیر خان اور بعض حالتوں میں فوج کے ایک میجر جنرل کو معلوم ہوتا تھا کہ ان اداروں میں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہ وہ خود جی ایچ کیو میں ڈی جی ملٹری آپریشنز تھے لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ کہوٹہ میں کیاہو رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انیس سو اٹھانوے کے بعد جب پاکستان نے جوہری دھماکے کیئے تو اس کے بعد جوہری پروگرام خفیہ نہیں رہا اور اس پر کنٹرول کے لئے ایک علیحد ادارہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام پر اب فوج اور حکومت دونوں ہی کا کنٹرول ہے۔ صدر مشرف نے (مرزا اسلم بیگ اور دیگر فوجی مبصرین) کا نام لئے بغیر کہا کہ یہ فوجی فلاسفر جن کو وہ نقلی فلاسفر کہتے ہیں انہیں منظرِعام پر آنے کا شوق ہےاور ٹی وی پر آنے کا شوق ہے اسی لئے وہ غلط باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناسمجھ کالم نگار ایسی باتیں لکھ رہیں ہیں کہ وہ ثابت کرائیں گے کہ پاکستان جوہری پروگرام رکھنے کے قابل ملک نہیں اور ’یہ دوکان بند ہونی چاہیئے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||