سات ارب ڈالر کا ایٹم بم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1972 سے لے کر رواں مالی سال 2004-2003 تک پاکستان حکومت نے اپنے ایٹمی پروگرام پر 184 ارب 53 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ یہ بات اسٹریٹیجک پلاننگ دویژن کے سینئر فوجی افسر نے بریفنگ میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ قوم کا پیسہ تو لگا ہے لیکن اس کے بدلے میں قوم کو ناقابل تسخیر دفاع بھی ملا ہے اور جو کچھ حاصل کیا گیا ہے یہ رقم اس لحاظ سے کچھ بھی نہیں ہے۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے جو گذشتہ 32 برس سے کام کر رہا ہے، 62 ارب 15 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ 28 برس سے کام کرنے والی خان ریسرچ لیبارٹری نے 43 ارب 80 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کئے اور مطلوبہ ایٹی مواد حاصل کیا۔ جبکہ باقی رقم دیگر اداروں نے اس ضمن میں خرچ کی۔ 1972 میں دفاع کا بجٹ محض چار ارب روپے تھا جو کہ رواں مالی سال میں 160 ارب روپے ہے۔ ایٹمی بجٹ دفاع کے بجٹ میں سے ہی فراہم کیا جاتا ہے اور رواں مالی سال میں دفاع کے لئے مختص 160 ارب روپوں میں سے 27 ارب روپے ایٹمی ٹیکنالوجی کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ سرکاری طور پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 32 برس میں قومی بجٹ کی مد میں 93 کھرب 70 ارب 90 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جس میں سے دفاع پر اس عرصہ میں 21 کھرب 7 ارب 93 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ ایٹمی بجٹ پر ایک کھرب 84 ارب 29 کروڑ 50 لاکھ روپے فراہم کئے گئے۔ دفاعی بجٹ کل قومی بجٹ کا 22.49 فیصد بنتا ہے جبکہ جوہری اخراجات کل قومی بجٹ کا 1.95 فیصد بنتا ہے۔ وزارت خزانہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ یہ رقم چونکہ سالانہ خرچ کی گئی ہے اور 1972 سے 2004 تک ہر سال ڈالر کی شرح تبادلہ بھی مختلف رہی ہے اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اب تک خرچ کردہ 184.5 ارب روپے تقریباً 7 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ ایٹمی تجزیہ نگار بسا اوقات پاکستان کے جوہری پروگرام کے متعلق اکثر یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے 33 ارب ڈالر کے بیرونی قرضہ جات کا بڑا حصہ جوہری اخراجات پر صرف ہوا ہے لیکن اس کے برعکس فوجی ترجمان کہتے ہیں کہ اس بات میں صداقت نہیں ہے۔ واضع رہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے اخراجات کے متعلق سرکاری طور پر باضابطہ اعداد و شمار سامنے نہیں آئے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ذمہ دار اعلیٰ فوجی افسر نے یہ اعداد و شمار بتائے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||