ڈاکٹر قدیر کومعافی مل گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر نہ ہی ایٹمی پروگرام ’رول بیک‘ کرنے کا دباؤ ہے اور نہ ہی ایسا کیا جائے گا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی ان کے ہیرو تھے اور اب بھی ان کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے غلطی کی تھی جس پر انہوں نے ان کی معافی قبول کر لی ہے۔ صدر مشرف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک کا ایٹمی پروگرام اقوام متحدہ کے زیر انتظام نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی اس کے بارے میں دستاویزات بین الاقوامی جوہری ادارے کے حوالے کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئی اے ای اے کا وفد پاکستان آیا تو جوہری سائنسدانوں سے تفتیش کے دوران حاصل کی جانے والی معلومات کا ان سے تبادلہ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کسی ایٹمی پروگرام کے بارے میں ’آزادانہ انکوائری‘ کے مطالبے کو بھی رد کیا۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ ملک کے جوہری اثاثوں پر جتنا کنٹرول اب ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعض ’ملٹری فلاسفر‘ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنا جوہری پرگرام بند کرنا پڑے گا کیونکہ اس پر بیرونی دباؤ ہے۔ تاہم جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان پر ایسا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی طرح رہے گا تو اسے اور اس کے جوہری پروگرام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ البتہ صدر مشرف کا کہنا تھا ’اگر (پاکستان کو) کوئی خطرہ ہے تو وہ نا سمجھ سائسندانوں سے، بے اصول سائنسدانوں سے اور ناسمجھ کالم نویسوں سے ہے کیونکہ ایسے لوگ اپنی ناسمجھی سے ایسی بات ثابت کرائیں گے اور لوگوں کو باور کرائیں گے کہ ان (پاکستان) کی دکان بند کرائیں۔‘
انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں نے طوطے کی طرح رٹ لگا رکھی ہے کہ پاکستان پر جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کا دباؤ ہے۔ قدرے درشت لہجے میں جنرل مشرف کا کہنا تھا:’ پتہ نہیں یہ لوگ رات کو اس طرح کے خواب دیکھتے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں کہ رول بیک ہو رہا ہے، وہ یہ کہنا بند کریں۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے چھ ہزار سائنسدان ہیں جبکہ سائنسی تحقیق کے اداروں میں پینتالیس ہزار افراد کام کر رہے ہیں اور ان سب میں سے صرف گیارہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے تین فوجی ہیں۔
جب جنرل مشرف سے پوچھا گیا کہ جوہری ٹیکنالوجی مسلمان ملکوں کو ہی منتقل کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی مسلمان ممالک تھے جنہوں نے پاکستان کا نام بین الاقوامی اداروں کو دیا تھا۔ ہمارا نام بھی سب سے پہلے ان مسلم بھائیوں نے اگلا تھا- ملک میں ڈاکٹر قدیر کے رتبے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کو سر پر بٹھا کر رکھا اور آسمان پر چڑھا کر رکھا لیکن یہ بہت افسوس اور رنج کی بات ہے کہ جب کریدا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے غلطیاں کی اور وہ بھی انسان ہی تھے۔ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ قومی ہیرو کا احترام اپنی جگہ پر لیکن ہیرو کو بچاتے بچاتے ملک تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر کوئی بین الاقوامی دباؤ نہیں ہے اور سارے فیصلے قومی سلامتی کونسل میں مشورے کے بعد ہی کئے جاتے ہیں۔ جنرل مشرف نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا اور ایران جیسے ممالک جنہوں نے جوہری ہتھیاروں سے متعلق اپنے تمام کاغذات عالمی اداروں کے حوالے کر دئیے ہیں وہاں کا میڈیا تو اپنی حکومتوں پر تنقید نہیں کر رہا اور ہم یہاں اگر چیزیں صحیح صحیح بھی پیش کریں تو ہم پر نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کو اقوام متحدہ کے کنٹرول میں دینے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ یہی سوال ان یورپی ممالک سے بھی کیا جانا چاہئیے جن کے افراد اس معاملے میں ملوث ہیں۔ زیر تفتیش سائنسدانوں کے رشتے داروں کے احتجاج کے بارے میں جنرل مشرف نے کہا کہ جب میں ان کو ٹی وی پر رونا دھونا کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ایک تو چوری اور دوسرا سینہ زوری- یہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب ان کے باپ بھائی پاکستان کو بیچ رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||