| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر قدیر کی برطرفی پر ردعمل
پاکستان میں حزب اختلاف نے جوہری منصوبے کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سرکاری مشیر کے عہدے سے برطرفی کو توہین قرار دیا ہے۔ سنیچر کے روز انہیں ایران اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق جاری تفتیش کے سلسلے میں برطرف کر دیا گیا تھا۔ حزب اختلاف نے صدر جنرل مشرف پر امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا الزام لگایا ہے۔ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل حمیدگل نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس معاملے پر عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مسلم لیگ کی سینیٹر سعادیہ عباسی نے اسے پاکستانی عوام کی توہین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بد سلوکی کا جو برتاؤ قومی ہیرو کے ساتھ کیا گیا ہے اس پر پوری قوم شرمسار ہے۔ ایم ایم اے کے میاں محمد اسلم نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ ان کے بقول ’امریکہ اور مغربی ممالک کو ایک مسلمان ملک کا ایٹمی طاقت بننا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔‘ تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے ان الزامات کو ’بکواس‘ قرار دیا ہے۔ مسعود خان نے کہا کہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ اس معاملے پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن حکومت کے پاس ایسے شواہد تھے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ تفتیش دو ماہ قبل اقوام متحدہ کی اطلاعات کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں اور اب تک خان ریسرچ لیبارٹریز کے پندرہ سائنسدانوں اور ملازمین کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ ان میں سے پانچ افراد اب بھی سرکاری تحویل میں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||