| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبائی وزیر کے والد سے تفتیش؟
بدھ کی شب کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر صحت کے والد کو جو ایٹمی سائنسدان رہے ہیں کو ڈی بریفنگ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ ان اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر صحت طاہر علی جاوید کے والد نعمت علی جاوید کو، جو ان دنوں شکر گڑھ تحصیل کے ناظم بھی ہیں، بدھ کی شب نامعلوم حکومتی حکام ان کے گھر سے اسلام آباد لے گۓ۔ تاہم جمعرات کو نعمت جاوید نے ایک بیان میں کہا کہ ان کو تفتیش کے لئے نہیں لے جایا گیا۔ لیکن سکیورٹی کے کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ نعمت علی جاوید بھاری پانی کے انجینئر ہیں اور کہوٹہ کے علاوہ چشمہ نیوکلئیر پلانٹ میں بھی کام کرتے رہے ہیں۔ سرکاری طور پر اس حراست کی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن کہا جارہا ہے کہ انھیں ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر جاری ڈی بریفنگ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد میں ایک معروف بزنس مین اعزاز جعفری بھی بیس روز سے حراست میں ہیں۔ وہ کئی ہوٹلوں اور کلبوں کے مالک ہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ اعزاز جعفری کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ مل کر جائداد خریدی اور اب وہ ان کے خلاف گواہ بننے پر آمادہ ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||