BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرے کوئی بھرے کوئی
میزائل
’ایٹمی جنگ کا اتنا خطرہ پہلے نہ تھا‘

اقوام متحدہ کے ناظم برائے ایٹمی عدم پھیلاؤ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر مشرف نے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا الزام کچھ لالچی افراد پر لگا کر دیگر ممالک کو بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کی راہ دکھا دی ہے۔

اقوام متحدہ کے نگرانی کرنے والے اور چھان بین کرنے والے ادارے یو این ایم او وی آئی سی کی فرانسیسی رکن تھریس ڈلپیش نے کہا ہے کہ نجی سطح پر ٹیکنالوجی منتقل کرنے والوں کے باعث حکومتیں پسِ پردہ چلی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ظاہر ہے کہ حکومت پاکستان براہِ راست جوہری تفصیلات کسی کو فروخت نہیں کرے گی۔ لیکن نجی طور پر تفصیلات منتقل کرنے والوں کے پیچھے عموماً حکومتیں ہی کارفرما ہوتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ چین اور شمالی کوریا سے بھی جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے الزام کے حوالے سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے۔

سنیچر کے روز سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام ڈیووس پر امریکی نائب صدر ڈِک چینی سے ملاقات کے بعد پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ’بعض عناصر‘ نے ’ذاتی لالچ‘ کے باعث جوہری تفصیلات فراہم کی ہیں۔ صدر مشرف نے اس بات کی تردید کی کہ حکومت کا اس کام میں کوئی ہاتھ ہے۔

صدر پرویز مشرف نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب پاکستان سے ایران اور لیبیا کو مبینہ طور پر جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے بارے میں پوچھ گچھ جاری ہے۔

ڈلپیش نے دبئی کو اسلحہ کی غیر قانونی تجارت کا ’سب سے بڑا مرکز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں متعدد اقسام کے اسلحے کا کاروبار کیا جاتا ہے جس میں کئی برس سے ایسے کاروبار بھی شامل ہیں جن کے تحت پاکستان کو ایسے آلات فراہم کئے جاتے رہے ہیں جو آگے چل کر جوہری منصوبے میں کارآمد ثابت ہوئے ہیں۔ اکتوبر سن انیس سو نوے میں جب پاکستان نے عراق کو جوہری مواد تیار کرنے والی مشین اور اس کا ڈیزائن فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی تو اس وقت بھی دبئی کو ہی اس کام کے لئے مرکز بنایا گیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ عراق کو پیشکش کے بعد یہی ڈیزائن لیبیا کو بھی فراہم کیا گیا۔ اور یہ بات ان بہت سی وجوہات میں شامل تھی جن کے باعث جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل محمد البرادئی نے چوکنا رہنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔‘

البرادئی نے گزشتہ پیر کو کہا تھا کہ ایٹمی جنگ کا اس قدر خطرہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ جرمنی کے ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم اس پر قابو پانے کے نئے بین الاقوامی طریقۂ کار پر اتفاق نہیں کرتے تو ہم ایٹمی جنگ کی زد میں آ جائیں گے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد