ڈاکٹر قدیر کی’رحم کی اپیل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے ’ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے تمام الزامات قبول کرتےہوئےصدر جنرل پرویزمشرف سے ملاقات کر کے رحم کی اپیل کی ہے‘۔ یہ دعوٰی سرکاری طور پر جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیاگیا ہے۔ اس ضمن میں جب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ملاقات ڈاکٹر قدیر کی درخواست پر ہوئی اور ان کی رحم کی اپیل پر کاروائی قانون میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔ صدر جنرل پرویزمشرف نےنیشنل کمانڈ اتھارٹی کا ہنگامی اجلاس بدہ کی شام کو طلب کرلیا ہے جس میں یہ معاملہ زیر غور آئے گا اور حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی میں ملوث ہونے کا دوبارہ اقرار کرتے ہوئے یہ بھی تسلیم کیا کہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بھی انہوں نے یہ الزامات تسلیم کئے تھے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تمام تر ذمہ داری اپنے سر لیتے ہوئے کہا کہ جب وہ خان ریسرچ لیبارٹری کے سربراہ تھے وہ جوہری پھیلاؤ میں ملوث تھے۔
اورانکی یہ سرگرمیاں نہ صرف پاکستانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھیں بلکہ اس سے پاکستان کا نہ صرف جوہری پروگرام خطرے میں پڑ سکتا ہے اور قوم کو بھی انہوں نے خطرے میں ڈال دیا۔ بیان کے مطابق ڈاکٹر خان نے صدر کو رحم کی درخواست پیش کی اور قوم کی سلامتی کیلئے فراہم کی گئی خدمات کے عوض معافی کی اپیل کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے بیان میں کہا گیار ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے واقعات نے پوری قوم کو سخت صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے اپنے کئے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے سرزد ہونے والی غلطی پر قوم کے سامنے بیان دینے کا بھی کہا۔
حکومتی بیان کے مطابق ڈاکٹر قدیر نے کہا ’صدر مشرف نے بڑی مہربانی سے میری بات سنی اور میں نے ان کے سامنے ہر چیز کی وضاحت کی۔ میں نے سارے پس منظر سے آگاہ کیا، جو ہو رہا ہے اور جو ہو چکا ہے اس کے بارے میں بتایا اور انہوں نے میری صاف گوئی کو پسند کیا۔‘ علاوہ ازیں متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسبملی میاں محمد اسلم نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے شک ظاہر کیا کہ سرکاری دعوٰی پہلے بھی جھوٹا ثابت ہوچکا ہے اب بھی رحم کی درخواست کی خبر پر یقین نہیں کیا جاسکتا ـ میاں اسلم نے پانچ فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجھتی اور ’’ یوم مذمت مشرف ‘‘ منانے کا اعلان کرتےہوئے آبپارہ سے احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ـ انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی سائنسدان قوم کے ہیرو ہیں انکی تذلیل بند کی جائےـ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||