ڈاکٹر قدیر عہدے سے برطرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےجوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حکومتی مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو سائسنی امور کے لئے وزیرِ اعظم کے خصوصی معاون کے عہدے سے برطرف کیا گیا ہے۔ ان کی برطرفی سے پہلے نیوکلیئر کمانڈ کونسل کا ایک طویل اجلاس ہوا جس میں جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مبینہ طور پر ملوث چند سائنسدانوں کے خلاف جاری تحقیقات کا جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹر قدیر کو جنہیں اب تک پاکستان کے جوہری منصوبے کا بانی قرار دیا جاتا رہا محض ایک نوٹس جاری کر کے ان کے عہدے سے برطرف کیاگیا۔ ڈاکٹر قدیر خان کو ملک میں قائم یورینیم کی افزودگی کے بڑے مرکز یعنی خان ریسرچ لیبارٹریز ( کے آر ایل) کی سربراہی سے دو برس قبل ریٹائر ہونے کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے سائنسی امور کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ ایک سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کو ان کے عہدے سے محض اس لئے برخاست کیا گیا ہے تاکہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق سکینڈل کی منصفانہ طور پر چھان بین کی جا سکے۔
تاہم یہ فیصلہ اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کا شمار ایران اور غالباً لیبیا کو غیر قانونی طور پر جوہری تفصیلات منتقل کرنے والے اہم ترین مشکوک افراد میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر قدیر کے اہلِ خانہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر اور درجن بھر دیگر سائنسدانوں اور افسران سے پوچھ گچھ کی گئی ہے اور اس بات کی چھان بین بھی ابھی جاری ہے کہ اس تمام معاملے میں ڈاکٹر قدیر نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||