BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2004, 08:59 GMT 13:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زیرِحراست افراد کسی کےحوالےنہ ہوں‘

قدیر خان

لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ کہوٹہ میں کام کرنے والے جن اشخاص کو حکومت نے "ڈیبریفنگ " کے لیے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے ان کو عدالت کے دائرہ کار سے باہر نہ لے جايا جائے۔

یہ حکم عدالت نے کے آر ایل (کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری) کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ آٹھ افراد کی حبس بے جا کی درخواست پر دیا جس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ گرفتار شدگان کو امریکی ادارے ،ایف بی آئی یا کسی اور امریکی ایجنسی کے حوالے کر دیا جائے گا۔

حکومت نے حبس بے جا کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور وفاقی حکومت کے نمائندے نے کہا کہ درخواستوں میں اٹھائے گۓ نکات کا جواب دینے کے لیے مزید پندرہ دن کا وقت درکار ہے۔

عدالت نے حکومت کے موقف پر ناراضگی کا اظہارکیا اور کہا کہ حراست میں لیے گئے کے آر ایل کے لوگوں کے بارے میں سوائے عدالت کے ساری دنیا کو بتایا جا رہا ہے۔

عدالت نے حکومت کی درخواست پر دو ہفتہ تک کیس کو ملتوی کرنے کی درخواست منظور نہیں کی اور حکم دیا کہ حبس بے جا کی درخواستوں کی دوبارہ سماعت منگل کو ہوگی اور حکومت اپنا موقف لے کر آئے۔

درخواست گزاروں کے وکلاء نے کہا حکومت، عدالت کی پروا نہیں کر رہی ہے اور اس کے سامنے آنے سے گریزاں ہے۔

پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلقہ جن لوگوں کے لواحقین نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے ان میں محمد فاروق ، ڈائریکٹر جنرل؛ میجر اسلام الحق ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پرنسپل سٹاف افسر ؛ برگیڈیر سجاول، سابقہ ڈائریکٹر جنرل سروسز ڈویثزن، کے آر ایل؛ ڈاکٹر عبدالمجید، موجودہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس ڈیپارٹمنٹ؛ نسیم الدین ، سربراہ میزائل مینوفیچرنگ ڈویثزن ؛ڈاکٹر منصور احمد، سابقہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اینڈ فزکس؛ برگیڈیر محمد اقبال تاجور، سابقہ ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی کہوٹہ ؛ ڈاکٹر نذیر احمد، موجودہ چیف انجنیئر میٹلجرگ ڈیپارٹمنٹ کہوٹہ میں شامل ھیں

حراست میں لیے گۓ لوگوں کے لواحقین سخت جذباتی ہو رہے تھے اور ان میں سے ایک نے عدالت میں دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا اور کہا ان کے بھائی کو ملک کی خدمت کا یہ صلہ دیا جا رہا ہے۔

حکومت کے وکیل طارق محمود نے کہا ملک کی ’بے تحاشا ایجنسیاں‘ ہیں جن سے جواب لینے کے لیے ان کو کافی وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے پولیٹیکل سیل اور کرائسس مینجمنٹ سیل سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن درخواست گزاروں کے لواحقین آئی ایس آئی کے ان دو حصوں کے پاس نہیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد