| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’حقائق سامنے لائیں گے‘ قاضی
جماعت اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے رہنما قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ وہ جوہری سائنسداں اور خان ریسرچ لیبارٹری کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے مشورے کے بعد پانچ فروری کو بڑے جلسے میں تمام حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔ بی بی سی اردو کے پروگرام ’جہاں نما‘ کے میزبان آصف جیلانی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس بحران کے موقع پر ایسی کوئی صورتحال پیدا نہ ہو جس کا فائدہ دشمن اٹھائے۔ ’دشمن کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی صورتحال پیدا کردے کے اگر وہ شدت اختیار کرے تو اس کا فائدہ بھی دشمن کو ہو اور اگر ہم کچھ بھی نہ کریں تو بھی فائدہ دشمن ہی اٹھائے۔ تو ہم نے اسی لیے بالکل سوچ سمجھ کر ایسی حکمت عملی اختیار کی ہے جو ملک کے بہترین مفاد میں ہو۔‘ ایم ایم اے کے رہنما نے کہا کہ اس سلسلے میں بڑے پیمانے پر عوام کو متحرک کیا جائے گا اور انہیں حقائق کی ایک واضح شکل پیش کی جائے گی تاکہ وہ اپنا راستے متعین کرتے ہوئے بین الاقوامی سازشوں سے ملک کو محفوظ رکھ سکیں۔ ’اصل والی وارث اور مالک اس ملک کے عوام ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال کچھ نہیں بتا سکتے مگر پانچ فروری کے کسی بڑے جلسے میں ہی عوام کو حقائق بتائیں گے۔ انہوں نے کہا ’اس سلسلے میں ہم مجلس عمل کے اندر اور باہر مشورے کرکے ہی حقائق واضح شکل میں عوام کے سامنے رکھیں گے۔‘ ملک کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں ایک سوال پر قاضی حسین نے کہا کہ ملک کا جوہری پروگرام اور ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے کیونکہ اگر سائندانوں اور ٹیکنالوجی کا علم رکھنے والوں کو اس طرح رسوا کرنے کوشش کی جائے گی تو نقصان علم کو پہنچے گا۔ زد علم پر پڑے گی۔‘ جوہری پروگرام کے تحفظ کے بارے میں انہوں نے کہا ’سب سے زیادہ غیر محفوظ جوہری پروگرام تو خود امریکہ کا ہے۔ جس کا تجربہ بھی کیا جاچکا ہے۔ انسانیت دشمنی کا مظاہرہ تو انہوں نے کیا ہے۔‘ سنیچر کو برطرف کیے جانے والے حکومتی مشیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے اس سلسلے میں کسی ملاقات کے بارے میں قاضی حسین احمد نے کہا ’میری بات ہوئی تھی ڈاکٹر عبدالقدیر سے۔ میں اس بحران کے پیدا ہونے کے بعد ان سے ملا ہوں۔ اصل میں تو انہوں نے مجھے کہا تھا کہ آپ کسی بھی وقت مجھے بلا سکتے ہیں کسی پریس کانفرنس میں جہاں میں اپنی بات کروں۔‘ ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی یا حراست سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں قاضی حسین نے کہا کہ جب میں ان سے ملا تھا اس وقت وہ آزاد تھے۔۔۔کہتے تھے کہ میں آسکتا ہوں کہیں بھی۔۔۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||