BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سائنسدان یا قربانی کے بکرے؟

ڈاکٹر قدیرخان
کیا ڈاکٹر قدیرخان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے؟
منگل کی رات آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل شوکت سلطان نے انڈس ٹیلی وژن پر ایک پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سائنسدانوں سے ڈی بریفنگ اس لیے کی جارہی ہے کہ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارہ (آئی اے ای اے) نے پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی کے منتقلی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کچھ لوگوں کے ناموں کی فہرست بھی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک جو پوچھ گچھ ہوئی ہے اس میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ ایسا جس نے بھی کیا وہ ذاتی طور پر کیا۔

اس سے پہلے وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشید احمد بھی اپنے بیانات میں یہ تاثر دیتے آئے ہیں کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی اگر ہوئی ہے تو انفرادی سطح پر ہوئی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ قوم جنھیں ہیرو سمجھتی ہے وہ کیسے کیسے کام کرتے رہے ہیں جس کا واضح اشارہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے کرتا دھرتا ڈاکٹر عبدالقدیر کی طرف تھا۔

ڈاکٹر عبد القدیر کو اب تک باقاعدہ حراست میں تو نہیں لیا گیا لیکن سرکاری طور سے یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ان سے پوچھ گچھ ہورہی ہے اور ابھی ان سمیت کسی کو کلئیر نہیں کیا گیا۔

گویا اب حکومت کی طرف سے یہ بات مان لی گئی ہے کہ پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی ہوئی تاہم سرکاری موقف یہ ہے کہ ایسا کچھ لوگوں نے انفرادی سطح پر کیا جس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

تاہم جو لوگ ایٹمی ٹیکنالوجی کے معاملات کو بہتر جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایسا انفرادی سطح پر ہو نہیں سکتا جب تک اس میں ریاست کے اعلی حکام شامل نہ ہوں۔

عالمی میڈیا میں آنے والی رپورٹوں کے مطابق ایران میں جب عالمی ادارہ نے ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کیا تو ایسے سینٹریفیوج ملے جن میں یورینیم کی افزودگی کی شرح بہت زیادہ تھی جس کی صلاحیت ایران میں نہیں۔ ان پرزوں کے بارے میں خیال یہ ہے کہ یہ ایران کو پاکستان سے ملے جس کے پاس یورینیم کو افزودہ کرنے کی اعلی صلاحیت موجود ہے۔

کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری میں ہمیشہ سخت سیکیورٹی کا نظام رہا ہے اور وہاں ہر آنے جانے والی چییز کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور اس کا انتظام کسی سویلین ادارہ کے پاس نہیں بلکہ فوج کے پاس رہا ہے۔ اس لیے یہ بات قابل اعتبار نہیں لگتی کہ فوج کے سرکردہ لوگوں کی مرضی کے بغیر پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے پرزے باہر چلے گۓ۔

گزشتہ روز لندن ٹائمز نے دعوی کیا تھا کہ پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسلم بیگ کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں رکھا گیا جس کی انھوں نے اور فوج کے تعلقات عامہ کے ترجمان نے تردید کی ہے۔

جنرل (ر) اسلم بیگ کے بارے میں مسلم لیگ کے رہنما اسحاق ڈار نے بیان دیا تھا کہ انھوں نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے انیس سو نوے کی دہائی میں وزیراعظم نواز شریف کو تجویز دی تھی کہ پاکستان ایٹمی ٹیکنالوجی ایران کو بارہ ارب ڈالر کے عوض فروخت کرے جسے نواز شریف نے مسترد کردیا تھا۔

ممکن ہے کہ جنرل بیگ کی وضاحت درست ہو اور انھیں شامل تفتیش نہ کیا گیا ہو۔ حکومت کی کوشش بھی یہی لگ رہی ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا سارا الزام ڈاکٹر خان لیبارٹری کے حکام پر ذاتی حیثیت ہی میں لگایا جائے۔

پاکستان کے میڈیا میں سرکاری اثر و رسوخ سے حکومت چند سائنسدانوں یا ڈاکٹر خان لیبارٹری کے کچھ اہلکاروں پر سارا الزام تھوپ کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرسکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے ماہرین اور اس کی باریکیاں سمجھنے والے پاکستان کے سرکاری موقف سے کیسے مطمئن ہوں گے۔

پاکستان حکومت کو سائنسدانوں کی شکل میں اس وقت قربانی کے بکرے مل تو گئے ہیں لیکن دنیا کی نظریں پاکستان کی فوج پر ہیں جس کے اعلی عہدوں پر فائز رہنے والے کچھ لوگوں کی ڈی بریفنگ کا وقت شائد اب دور نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد