| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت اور آئی ایس آئی کو نوٹس
پاکستان میں ایک عدالت نے نیوکلئیر سائنسدانوں کو مبینہ طور پر حبس بے جا میں رکھنے کے بارے میں ایک درخواست پر وفاقی حکومت اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں یہ درخواست ایک نیوکلئیر سائنسدان اسلام الحق کی اہلیہ نیلوفر اسلام کی طرف سے دائر کی گئی ہے جن کا کہنا ہے کہ بغیر کسی الزام کے اعلیٰ نیوکلئیر سائنسدانوں کی حراست سے ملک کے سائنسدان خوف و ہراس اور شرمندگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ممکنہ ایٹمی پھیلاؤ کے بارے میں ایٹمی تحقیق کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے اور ایران سے فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں خان رسرچ لیبارٹریز کے آٹھ اہلکاروں اور سائنسدانوں کو ’ڈی بریف‘ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں تقریباً تیس سال قبل شروع ہونے والے ایٹمی پروگرام کی تاریخ میں یہ شاید پہلا موقع ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے بارے میں اتنے وسیع پیمانے پر تحقیقات ہو رہی ہیں۔ اس تحقیقات میں پاکستان کے نیکلئیر پروگرام کے بانی کہلانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان تحقیقات کے بارے میں انتہائی رازداری سے کام لیا جا رہا ہے اور بہت کم معلومات منظر عام پر آرہی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے حکومت سے جمعہ کو جواب طلب کیا ہے۔ مدعیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو ہفتے کے روز ڈاکٹر خان کی رہائش گاہ سے حکام اپنے ساتھ لے گئے اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی جان بچانے کے لئے سائنسدانوں کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے۔ حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کبھی بھی میزائل یا ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث نہیں رہی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت دیکھ رہی ہے آیا کچھ افراد نے کسی لالچ میں آ کر اس قسم کا کوئی کام تو نہیں کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||