| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
قدیر خان کےپانچ معاون زیرِ تفتیش
خفیہ اداروں نے ہفتے اور اتوار کو ڈاکٹر قدیر خان کے عملے کے کئی افراد کو پوچھ گچھ کی غرض سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منقتل کر دیا ہے۔ تاہم تفتیش کی غرض سےپانچ افراد کو حراست میں لیے جانے کی خبر کی تصدیق ہو سکی ہے جب کہ ذرائع کے مطابق ان کی تعداد آٹھ ہے۔ حراست میں لیے جانے والے افراد میں خان ریسرچ لیبارٹری کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نذیر، سابق ڈائریکٹر سیکورٹی بریگیڈیئر تاجور، ڈاکٹر خان کے پرسنل اسٹاف افسر میجر اسلام، ڈاکٹر سعید اور ڈائریکٹر سپورٹس منصور احمد بھی شامل ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے ان اطلاعات کی تصدیق کی تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کو گرفتاری کہنا بلکل غلط ہے۔ انہوں نے حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد بتائے بغیر کہا کہ کچھ افراد کو ’ڈی بریفنگ‘ (پوچھ گچھ) کے لیے بلایا گیا ہے اور یہ کارروائی کسی جوہری صلاحیت رکھنے والے ملک میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان لوگوں نے کوئی جرم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں کچھ نئے پہلو سامنے آئے تھے جن کی وضاحت ضروری تھی اور اسی سلسلے میں ان لوگوں کو ’ڈی بریفنگ‘ کے لیے بلایا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایٹمی عدم پھلاؤ کے تمام عالمی معاہدوں پر سختی سے عمل کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی ان معاہدات کی پاسداری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ایسی کوئی بات نہ ہو اور ان باتوں کی وضاحت ہونی چاہئے۔ انہوں اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ حکومت سائنسدانوں سے تفتیش بیرونی دباؤ کے تحت کر رہی ہے۔ انہوں مزید کہا کہ کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جارہا ہے اور صرف ان لوگوں کے خلاف ہی اقدامات کئے جائیں گے جن کے خلاف کوئی ثبوت ہوگا۔ ڈاکٹر نذیر کے بیٹے عثمان نے اپنے والد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کی شام ساڑھے چھ بجے کے قریب تقریباً سات لوگ ان کے گھر آئے اور ان کے والد کو ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے والد کی گرفتاری کے متعلق بریگیڈیئر تاجور اور میجر اسلام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کے ان کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر نذیر اور میجر اسلام کے اہلخانہ نے ان کی حراستوں پر تفشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت ان کو بلاجواز پریشان کر رہی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مزید کچھ دن تک گرفتارشدگان کو رہا نہ کیا گیا تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت ڈاکٹر قدیر کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔ پارٹی کے پریس سیکرٹری صدیق الفاروق کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور اسے ’رول بیک‘ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس بیان میں خان ریسرچ لیبارٹری کے حراست میں لیے جانے والے چار افراد کے نام دیئے گئے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر سعید، ڈاکٹر نذیر، بریگیڈیئر تاجور اور میجر اسلام کو حراست میں لیا گیا ہے۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹر نے اطلاع دی ہے میجر اسلام الحق ڈاکٹر قدیر خان کے پرنسل اسٹاف افسر تھے اور انھیں ہفتے کی رات کو حراست میں لیا گیا۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے میجر اسلام کی بیوی نیلوفر کے حوالے سے کہا کہ وہ ہفتے کی رات کو ڈاکٹر قدیر کے گھر پر کھانا کھا رہے تھے کہ دو باوردی لوگ آئے جنہوں نے کہا کہ وہ میجر اسلام کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لیے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میجر اسلام کی حراست کی خبر انہیں ڈاکٹر قدیر نے دی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں میجر صاحب کےبارے میں کوئی خبر نہیں کہ انہیں کہاں لیے جایا گیا ہے اور کہاں رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے خفیہ اداروں نے حال ہی میں ڈاکٹر قدیر خان سے ایران کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے شبہ میں سوالات کئے گئے تھے۔ رائٹرز نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی کہ انھیں ایران کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے حوالے سے شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ حفیہ اداروں نے اس سے پہلے بھی کچھ سائسندانوں کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔ ان حراستوں پر تبصرہ کرتے ہوئے حکام نے کہا تھا کہ خان ریسرچ لیبارٹری کے کچھ لوگوں نے ذاتی لالچ اور فائدے کے لیے جوہری شعبے میں ایران کی مدد کی ہو۔ جنرل مشرف نے ہفتے کے روز پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان پر جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہم جوہری پھیلاؤ کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکی رونامہ نیویارک ٹائمز نے حال ہی میں ایک خبر شائع کی تھی جس میں امریکی خفیہ اداروں کے حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حکومت پاکستان بھی جنوبی افریقہ کے ایک تاجر کے ساتھ جوہری پرزوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||