ایٹمی سائنسدان: الزامات سے معافی تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جوہری پروگرام سالہاسال سے عالمی سطح پر بحث کا موضوع رہا ہے لیکن گیارہ ستمبر کے بعد سے بدلے ہوئے عالمی ماحول میں یہ تذکرہ زیادہ تیزی سے ہونے لگا اور بات ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی معافی تک پہنچی۔ مغربی ذرائع ابلاغ خاص طور پر امریکہ میں بار بار سوال اٹھتا رہا ہے کہ آیا یہ ذمہ دار ہاتھوں میں ہے یا نہیں۔ اکتوبر سن دو ہزار دو میں اخبار نیو یارک ٹائمز میں امریکی خفیہ اداروں کے حوالے سے خبر آئی کہ پاکستان نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اپریل دو ہزار تین میں امریکہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان رِیسرچ انسٹیٹیوٹ پر شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں مدد کی بنیاد پر دو سال کے لئے پابندی لگا دی۔ الزام لگا تھا کہ پاکستان نے میزائیل ٹیکنالوجی کے بدلے ایسا کیا۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔ نومبر دو ہزار تین میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے جنوبی کوریا کے دورے کے موقع پر کہا پاکستان نے شمالی کوریا سے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائیل اورٹیکنالوجی حاصل کی تھی۔ انہوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی خبروں کی تردید کی۔ جنوری دو ہزار چار میں پاکستانی حکومت نے لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی تردید کی۔ اس سے قبل نیو یارک ٹائمز نے ایک بار پھر امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ لیبیا کو بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں پاکستان کی مدد حاصل رہی ہے تاہم اخبار نے کہا کہ حکومت پاکستان کا اس کام میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس سے قبل برطانیہ کے اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ نے لیبیا کے صدر کرنل قذافی کے حوالے سے بتایا ان کے ملک نے پاکستانی سائنسدانوں سمیت مختلف ’بلیک مارکیٹوں‘ سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔ دسمبر دو ہزار تین میں حکومت پاکستان کے حوالے سے خبر آئی کہ وہ دو جوہری سائنسدانوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ تاہم اس بات کی تردید کی گئی ان کے خلاف مبینہ طور پر ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی وجہ سے تفتیش ہو رہی ہے۔ تئیس دسمبر دو ہزار تین میں نیو یارک ٹائمز میں خبر شائع ہوئی کہ تازہ شواہد ملے ہیں جن کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے شمالی کوریا اور ایران اور دوسرے ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی بیچی ہے۔ تئیس دسمبر ہی کو حکومت پاکستان کی تصدیق شائع ہوئی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ چوبیس دسمبر کو حکومت پاکستان کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ ان سائنسدانوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی جو ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ملوث پائے گئے۔ چوبیس جنوری دو ہزار چار کو صدر جنرل پرویز مشرف نے اعتراف کیا کہ بظاہر کچھ پاکستانی سائنسدانوں نے دوسرے ممالک کو ایمٹی معلومات فراہم کی ہیں۔ اکتیس جنوری کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو وزیر اعظم کے مشیر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ دو فروری کو پاکستانی حکام کے حوالے سے کہا گیا ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے دوسرے ممالک کو ایٹمی معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||