دوسرا حصہ: ایٹمی تنازعہ ۔ سوالات و جوابات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مِس تعظیم، کینیڈا: جب یہ تمام معاملات طے ہورہے تھے تو کیا ہمارے خفیہ ادارے سورہے تھے؟ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ یہ لمحوں کا نہیں مہینوں کا کام ہے۔ فاروق لغاری: اس سوال کا کچھ جواب تو مرزا اسلم بیگ اور مشاہد حسین نے دے دیا ہے۔ لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ خفیہ اداروں کے سربراہان، ایٹومِک اینرجی کمیشن کے سربراہان کے ماتحت بھی کام کررہے تھے۔ حکومت میں شاید یہ کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس پایہ کے سائنسدان پاکستان کے حساس منصوبے میں بددیانتی کریں گے اور کوئی راز باہر منتقل کریں گے۔ نوید شاہین، کشمیر، پاکستان: ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف جب ہالینڈ کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا تو پاکستان نے یہ جواز پیش کیا تھا کہ علم کسی کی میراث نہیں اور کوئی بھی شخص کہیں سے بھی علم حاصل کرکے کہیں بھی استعمال کرسکتا ہے، اس قسم کے جواز کی بین الاقوامی سطح پر کیا تشریح کی جاسکتی ہے؟ مشاہد حسین: ہم نے بالکل جائز موقف اختیار کیا تھا کہ علم کسی کی میراث نہیں۔ لیکن حالیہ صورتحال میں یہ محض علم کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ غالبا ایک کمرشیل لین دین کی شکل اختیار کرگیا تھا کہ سامان کہیں سے خریدا جائے، کسی کو بیچا جائے، اس کے ذریعے منافع کمایا جائے جو کسی حکومت کو نہیں بلکہ کسی کی ذات کو حاصل ہورہا تھا۔ اور یہ منافع غالبا جن لوگوں کو مل رہا تھا وہ اس وقت حکومتِ پاکستان کے افسران تھے۔ اس لئے یہ ساری صورتحال ایک نئے زمرے میں آتی ہے، یہ بلیک مارکیٹِنگ ہے، اسمگلِنگ ہے، اور کمرشیل لین دین ہے۔ اس حوالے سے یہ ایک کاروباری سلسلہ بن گیا تھا، نہ کہ علم کا تبادلہ۔ پرویز اختر چٹھہ، گجرانوالہ، پاکستان: میرا سوال مرزا اسلم بیگ سے ہے کیونکہ وہ سابق آرمی چیف تھے اور انہوں نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو دیا جس کا حوالہ صدر مشرف نے اپنی پریس کانفرنس میں دیا تھا۔ اسلم بیگ نے کہا تھا کہ بینظیر کے دور میں یورینیم کی افزودگی پچانوے فیصد سے کم کرکے پانچ فیصد کردی گئی تھی، دوسرے لفظوں میں جوہری پروگرام کو رول بیک کرنا غداری کے مترادف نہیں ہے؟ آرمی چیف اسلم بیگ، صدر، ڈاکٹر عبدالقدیر سبھی اس میں ملوث تھے، یہ رول بیک کس ملک کے دباؤ میں کیا گیا؟ مرزا اسلم بیگ: آپ کی تشویش بجا ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے۔ سازش کی پہلی کڑی یہ ہے جیسا کہ پہلے سوال کے جواب میں کہہ چکا ہوں کہ ان کو معلوم تھا کہ گزشتہ پندرہ سالوں سے کیا ہورہا ہے۔ تو پھر ہمیں کیوں نہیں بتایا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پرولِفریشن یعنی پھیلاؤ کو بڑھاتے رہے۔ اس میں ایک کے بجائے دس ملک شامل ہوگئے، اور جب یہ سمجھا کہ اب وقت موزوں ہے تو پاکستان کے سامنے یہ پورا بھانڈا پھوڑ دیا کہ یہی وہ سائنسدان ہیں جنہوں نے یہ سب کیا ہے۔ اس کا مقصد سائنسدانوں اور پاکستان کو ذلیل و خوار کرنا ہے، اور اب یہ پاکستان پر اس قدر دباؤ بڑھائیں گے کہ وہ بین الاقوامی ایجنسیوں کو بلانے پر مجبور ہوجائے تاکہ وہ آئیں اور پاکستان کے جوہری منصوبے کا معائنہ کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو بہت سوچ سمجھ کر اس سازش کا جواب تیار کرکے رکھنا چاہئے تاکہ ہم اپنے مفادات کا آئندہ تحفظ کرسکیں۔ سہیل شبیر، راولپنڈی: ڈاکٹر قدیر سے اعتراف کرانے کے لئے حکومت نے ان پر کس قسم کا دباؤ ڈالا ہے؟ اور جب ایک ملک کسی دوسرے ملک کو ٹیکنالوجی منتقل کرتا ہے تو کیا اسے کوئی معاوضہ دیا جاتا ہے؟ اور اگر کسی ملک کو معاوضہ ملتا ہے تو موجودہ صورتحال میں ڈاکٹر قدیر کو کتنا ملا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں اس چھوٹی سی بات پر اتنا واویلا مچایا جارہا ہے، جبکہ بھارت جب امریکہ سے ٹیکنالوجی حاصل کرتا ہے تو کوئی کچھ نہیں کہتا۔ مشاہد حسین: میں دس روز پہلے میں ڈاکٹر قدیر سے ملا تھا لیکن حال میں ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے، اس لئے ڈاکٹر قدیر ہی بتاسکتے ہیں کہ ان پر کس طرح کا دباؤ ڈالا گیا ہے۔ جہاں تک میں ڈاکٹر قدیر کو جانتا ہوں تو وہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لئے میرے خیال میں ڈاکٹر قدیر کی مرضی کے بغیر کوئی بات نہیں ہوئی ہوگی۔ اگر ٹیکنالوجی ایک حکومت سے دوسری حکومت کو منتقل کی جاتی تو الگ بات تھی۔ لیکن موجودہ صورتحال میں دوسری حکومتوں نے پاکستان کے کچھ سائنسدانوں کے ساتھ رابطہ کرکے یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، اس لئے یہ سرکاری لین دین کے زمرے میں نہیں آتا۔ بلکہ یہ ایک نجی کاروبار اور نجی لین دن ہے۔ ان کا یورپی بلیک مارکیٹِنگ سے رابطہ تھا اور وہ لیبیا اور ایران کو یہ سب کچھ بیچ رہے تھے، اس لئے ظاہر ہے کہ اس کے معاوضے کا سلسلہ بھی کچھ اور ہی ہوگا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق کہا جارہا ہے کہ لیبیا نے پانچ کروڑ ڈالر کے عوض سینٹریفیوج کا ڈیژائن حاصل کیا۔۔۔۔ جہاں تک یہ سوال کہ کیا یہی معیار دوسرے ملکوں جیسے بھارت اور اسرائیل پر لاگو ہوتا ہے۔۔۔ دو روز قبل ڈیلی ٹیلیگراف میں یہ خبر چھپی کہ اسرائیل میں ایک دستاویزی فلم ’ہاؤ اسرائیل گاٹ دی بم‘ یعنی اسرائیل نے بم کیسے بنایا، تیار کی گئی ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے انیس سو چھپن میں فرانس سے کس طرح یہ ٹیکنالوجی حاصل کی اور جھوٹ بولتے ہوئے خفیہ طور پر یہ بم تیار کیا۔ میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا جو اسرائیلی انٹیلیجنس کے ایک ایجنٹ نے لکھی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے انیس سو چوراسی میں انڈیا کے سائنسدانوں کو دعوت دی جنہوں نے دونوں ممالک میں جوہری تعاون کی بات کو آگے بڑھایا اور اس تمام بات کو خفیہ رکھا گیا۔ امریکہ نے تو کبھی بھی اسرائیل یا انڈیا کو ڈنڈا نہیں دیا کہ انہوں نے بم کیوں بنایا۔ دباؤ ہمیشہ پاکستان پر ہی ڈالا جاتا رہا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دوہرے معیار (ہیں)۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||