تیسرا حصہ: ایٹمی تنازعہ ۔ سوالات و جوابات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عبدالغنی، دوبئی: ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو آخر معاف کیوں گیا ہے کیونکہ اس طرح کی غلطی تو نواز شریف نے بھی کی تھی؟ ہمارے خیال میں یہ مشرف صاحب نے کسی دباؤ کے تحت کیا ہے، یا کچھ اور بات ہے؟ فاروق لغاری: زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو ملک بدر نہیں کیا جائے گا، وہ پاکستان میں ہی رہیں گے۔ لیکن جہاں تک تعلق ہے معافی کا، تو یہ رپورٹ، اس کی تفتیش کی، ڈی بریفِنگ کی، اور جو باہر سے اطلاعات پاکستان کو فراہم کی گئیں اور جس کی بنیاد پر حکومت نے مزید تحقیقات کی ہے، میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ وہ ۔۔۔۔ (فون لائن منقطع) ریاض احمد، آسٹریلیا: مرزا اسلم بیگ نے یہ بیان دیا تھا کہ یورینیم کی افزودگی پچانوے فیصد سے کم کرکے صرف پانچ فیصد کردی گئی تھی، جس کا حوالہ صدر مشرف نے حالیہ پریس کانفرنس میں دیا ہے، کیا اس طرح کے بیانات ذمہ دار پاکستانی شہری اور ایک سابق آرمی چیف کو زیب دیتے ہیں؟ اور ایسے بیانات کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ مرزا اسلم بیگ: میں نے کوئی غیرذمہ دارانہ بیان نہیں دیا ہے، بلکہ میں گزشتہ دس برسوں میں یہ بات بارہا کہہ چکا ہوں تاکہ دنیا یہ بات سمجھ جائے کہ ہم ایک ذمہ دار ملک ہیں۔ جب ایٹمی منصوبے کے مقاصد پورے ہوگئے تو اس وقت بینظیر کے دور حکومت میں جب اسحاق خان صدر تھے، یہ بات سوچی گئی کہ اب کیا ضرورت ہے کہ ہم (یورینیم) اسٹاک پائل (جمع) کرتے جائیں اور ایٹم بم بناتے جائیں کیونکہ یہ بڑی خطرناک چیز ہے۔۔۔۔ہم نے کوئی راز فاش نہیں کیا کہ جس سے منصوبے پر کوئی اثر پڑے بلکہ ہم نے اپنی ذمہ داری اور مضبوط پالیسی کا اعلان کیا، جو کسی اور نے نہیں، میں نے کیا۔ ابھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ بینظیر صاحبہ نے اس پالیسی کو ’بینظیر نیوکلیئر نظریہ‘ کا نام دیا ہے، وہ جو بھی نام دی لیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر دانشمندانہ پالیسی بنائی گئی، اور اس سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ شفیع نقی جامعی: اسلم بیگ صاحب، اطلاعات تو یہ بھی رہی ہیں کہ پاکستان کے وزراء اعظم کو تو وہاں گھسنے یا پھٹکنے تک کی اجازت نہیں تھی؟ یہ لوگ تو کبھی کے آر ایل میں گئے ہی نہیں تھے، خاص طور پر پاکستان کی ایک سابق وزیراعظم کا نام اس سلسلے میں کھل کر آیا۔ مرزا اسلم بیگ: یہ ایک سیاسی بیان ہے اور آپ سیاست دانوں کی بات پر زیادہ دھیان نہ دیا کریں۔ جہاں تک ان کے کہوٹہ جانے کا سوال ہے تو انہوں نے مجھ سے کبھی نہیں کہا اس لئے کہ مجھے اختیار نہیں تھا، ڈاکٹر قدیر سے کہا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ انہیں ساتھ نہ لے جاتے۔ یہ آپ انہیں سے پوچھئے، آپ کو ڈاکٹر قدیر بھی بتائیں گے اور محترمہ خود بھی بتائیں گی۔۔۔۔ فاروق لغاری: مرزا اسلم بیگ نے جو یورینیم کی افزودگی کے پانچ فیصد رہ جانے کی بات کی ہے وہ غالبا اس وقت کا حوالہ دے رہے ہیں جب وہ خود آرمی چیف تھے اور بینظیر وزیراعظم تھیں۔ میں اس وقت کے رازوں سے آگاہ نہیں ہوں۔ لیکن بعد میں جو بھی وزراء اعظم آئے انہوں نے پاکستان کے جوہری منصوبے کی ہرطرح سے حمایت کی ہے۔ لیکن دوسرے دور میں جب بینظیر وزیراعظم اور میں صدر تھا تو اس وقت بینظیر کو جوہری منصوبے تک رسائی یقینی طور پر حاصل تھی۔۔۔۔(فون لائن منقطع) محمد خان، سول، جنوبی کوریا: ڈاکٹر قدیر خان ہمارے قوم کے ہیرو تھے، ان سے غلطیاں سرزد ہوئیں، انہوں نے معافی مانگی، اور انہیں معاف کردیا گیا۔ لیکن پاکستان میں مولانا حضرات ہڑتال کی اپیل کررہے ہیں، حکومت پر الزام عائد کررہے ہیں، کیا یہ ملک و قوم کو بدنام کرنے کے مترادف نہیں؟ شفیع نقی جامعی: ہم معذرت چاہیں گے، اگر یہاں حزب اختلاف کا کوئی نمائندہ ہوتا تو اس کا جواب دیتا۔ عالم نور، میران شاہ، پاکستان: ڈاکٹر قدیر خان کے آر ایل کے باہر لگے ہوئے اتنے سخت پہرے میں آخر کیسے دوسرے ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرسکتے ہیں؟ اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو انہیں کتنا معاوضہ ملا ہے؟ مرزا اسلم بیگ: ڈاکٹر قدیر کو معاوضہ کتنا ملا ہے اس کے بارے میں تو حکومت ہی کچھ بتاسکتی ہے۔ لیکن جہاں تک فوج کی ذمہ داری ہے کہ کے آر ایل کے گرد فوج بھی موجود رہتی ہے، وہ اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ وہاں فضائیہ کے لوگ بھی موجود رہتے تھے۔ ہماری اور فضائیہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ بری اور فضائی تحفظ فراہم کیا جائے لیکن لیبارٹری کے اندر ہمارا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ لیبارٹری کے اندر بریگیڈیئر رینک کے صرف دو ہی لوگ ہوتے تھے جو ڈاکٹر قدیر کی مدد کرتے تھے۔ اور یہ دونوں بریگیڈیئر فوج کو نہیں ڈاکٹر قدیر کو جوابدہ تھے۔ ڈاکٹر شفیق: میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ انتظامیہ ہتھیاروں کے پھیلاؤ یعنی پرولِفریشن کی تعریف کیسے کرتی ہے کیونکہ میرے خیال میں دو چیزیں اہم ہیں، ایک یہ کہ پوری طرح تیارشدہ چیزوں کا حصول، مثال کے طور پر ایف سولہ طیارے، اور دوسری یہ کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، مثال کے طور پر اگسٹس آبدوزیں؟۔۔۔۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ اس کے لئے آپ کو تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں تربیت دینے کیلئے خاصہ وقت درکار ہوتا ہے۔۔۔۔جہاں تک معاوضے کا تعلق ہے تو لاکھوں ڈالر لینے کا الزام لگایا جارہا ہے، میں یہ کہوں گا کہ آرام سے کمایا ہوا پیسہ صاف نظر آجاتا ہے۔ لیکن اگر واقعی ایسی بات ہے تو آپ یہ چھان بین کرالیجئے کہ معاوضہ حاصل کرنیوالوں کے بچے کہاں پلے بڑے، وہ کہاں رہ رہے ہیں، وہ کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں تک لیبیا کی بات ہے تو اس نے واضح کیا ہے کہ اس مڈل مین نے پاکستان کے مڈل مین سے رابطہ کیا، اور سائنسدانوں سے کہیں رابطہ نہیں کیا۔ شیما صدیقی، کراچی: پاکستان نے اپنے سائنسدانوں کی قربانی دیکر خود کو امریکہ کے دباؤ سے بچالیا ہے۔ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اس دباؤ سے بچنے کے لئے پاکستان آئندہ کیا لائحۂ عمل اپنائے گا اور کس کو قربانی کا بکرہ بنائے گا؟ مشاہد حسین: میرے خیال میں عوام، پیبلِک اوپینین اور پارلیمان سے دباؤ کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ مارچ میں جب ترکی پر دباؤ بڑھا کہ وہ امریکی فوج کو عراق میں داخل ہونے کا راستہ دے تو ترکی کی حکومت اور پارلیمان نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے اور امریکہ نے وہ فیصلہ مان لیا، جب امریکہ نے لبنان پر دباؤ ڈالا کہ وہ حزب اللہ پر پابندی عائد کرے اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے تو لبنانی حکومت کا کہنا تھا کہ ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے۔ تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حزب اللہ آج بھی قائم ہے، اس لئے میرا خیال ہے کہ حکومتِ پاکستان کو چاہئے کہ وہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے اور ساتھ لےکر چلے۔ دوسری اہم بات جو میں کہنا چاہتا ہوں کہ امریکہ کے دباؤ کا تعلق اصولوں سے نہیں، بلکہ صرف سیاسی مفادات سے ہے۔ اس وقت امریکہ کو پاکستان کی زیادہ ضرورت ہے بہ نسبت پاکستان کو امریکہ کی۔ کیونکہ ہمارے تعاون کے بغیر امریکہ کی افغانستان سے متعلق حکمت عملی یا دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی جنگ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اس لئے میرا نہیں خیال کہ پاکستان پر امریکہ کے دباؤ میں اضافہ ہوگا، بلکہ امریکہ نے تو خود کہا ہے کہ وہ مطمئن ہے۔ وحید احمد کھیڑا، ملتان: سابق صدر لغاری کا حال ہی میں اخبار میں بیان آیا ہے کہ سائنسدان گِلٹی یعنی مجرم ہوسکتے ہیں، لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا انہیں ان سب باتوں کا پہلے سے علم نہیں تھا؟ فاروق لغاری: پاکستان کا ایٹمی پروگرام پہلے بھی محفوظ تھا اور اب بھی محفوظ ہے، لیکن پاکستان کی ہر دور میں پالیسی یہی رہی کہ ہم پرولِفریشن نہیں کریں گے اور سائنسدان اس بات سے پوری طرح آگاہ بھی تھے۔ اگر کسی نے معاوضہ لیکر یا کسی اور وجہ سے ٹیکنالوجی منتقل کی ہے تو انہوں نے یہ قدم پاکستان کے مفادات کے خلاف اٹھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے پوری قوم سے معافی طلب کی ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ۔۔۔۔(فون لائن منقطع) شفیع نقی جامعی: پاکستان کو اس ساری صورتحال سے کیا سبق ملا ہے؟ مرزا اسلم بیگ: سبق یہ ملا ہے کہ ہمارے جو دوست ہیں اور جنہیں ہم دوست سمجھتے ہیں، ہمیں ذرا سنبھل کر ہی تعلقات قائم کرنے چاہئیں، کیونکہ انہوں نے ہمیں بڑا دھوکہ دیا ہے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس جرم میں امریکہ اور برطانیہ برابر کے شریک ہیں اور آئندہ جب یہ معاملہ کہیں بھی سامنے آتا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ یہ جرم چھپایا اور پرولِفریشن کو بڑھایا۔ برطانیہ اور امریکہ دونوں اس میں شامل ہیں اور میرا یہ خیال ہے کہ یہ جو لیبیا کو سینٹریفیوج اور ڈیژائن دینے کی بات ہے یہ سب دھوکہ ہے۔ وہ بیچارے تو پچھلے دس سال سے یہ سب دیکھ رہے ہیں اور ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے۔ شفیع نقی جامعی: مشاہد صاحب۔۔۔۔ مشاہد حسین: مسلم امہ کے نظریے کو بہت شدید دھچکا لگا ہے، لیبیا اور ایران بھاگ گئے ہیں کیونکہ وہ یرک گئے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ سیکیورٹی کا نظام فول پروف ہونا چاہئےتھا، اس میں ہم سے کوتاہی ہوئی ہے۔ ختم شد |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||