’یشونت سنہا مشورہ نہ دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے بھارت کے وزیر خارجہ یشونت سنہا کا پاکستان میں جوہری سائنسدانوں کے خلاف کئے گئے اقدامات کے بارے میں بیان مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے اور اسے کسی اور بین الاقوامی فورم پر اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے یشونت سنہا کے بیان کو بے جا اور بلا ضرورت قرار دیا اور کہا کہ جوہری عدم پھلاؤ کے بارے میں بھارت سمیت تمام ملکوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ مسعود خان نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو معافی دینا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارت کے وزیر خارجہ یشونت سہنا نے پاکستان میں جوہری ٹیکنالوجی لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کو منتقل کرنےکے بارے میں ڈاکٹر قدیر کے اعترافی بیان پر کہا تھا کہ اس سے معاملہ حل نہیں ہوتا۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت کے بعد یہ پہلا بیان ہے جس پر پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ پاکستان ایٹمی عدم پھلاؤ کے عالمی ادارے سے تعاون کرنے کو تیار ہے لہذا اس یشونت سنہا کو مشورہ دینے کی ضرورت نہیں۔. تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یشونت سنہا کی اس بات سے اختلاف نہیں کرتے کے بھارت سمیت تمام جوہری ملکوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||