 |  ایران میں تبدیلیِ جنس پر تحقیق کی اجازت ہے |
بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن نے ایران جیسے ملک میں کہ جہاں ہم جنس پرستی ممنوع ہے، ایک مذہبی رہنما سے ملاقات کی ہے جن کی رائے میں انسان کو اپنی مرضی سے جنس تبدیل کرانے کا حق حاصل ہے۔ مہیار نامی ایک خاتون گزشتہ بیس برس سے ایک مرد کے وجود میں قید ہیں۔ انہیں بچپن ہی سے خواتین کا لباس پہننا اور بناؤ سنگھار کرنا پسند تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسا کرنا دشوار تر ہوتا چلا گیا۔ مہیار کا کہنا ہے انہیں چھپ کر اپنی یہ خواہش پوری کرنی پڑتی۔ مہیار تبدیلیِ جنس کا آپریشن کروانے کی خواہاں ہیں جس پر ایران میں دو ہزار پاؤنڈ کے برابر خرچ اٹھے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے گھر والوں نے مالی مدد نہ کی تو وہ اپنا ایک گردہ فروخت کر کے رقم جمع کرنے کے بارے میں سوچیں گی۔  |  ڈاکٹر میرجلالی مہیار سے آپریشن کے بارے میں بات کر رہے ہیں |
ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے پہلے ہی مہیار کے خسیے نکال دیئے تھے۔ آپریشن کے بعد مہیار کے بھائی نے انہیں ایک ہفتے تک کمرے میں بند کر دیا اور فون کرنے کی اجازت بھی نہ دی۔ بھائی کے بقول مہیار پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔ ایران میں تبدیلیِ جنس کے ممتاز سرجن ڈاکٹر میرجلاجلی کا کہنا ہے کہ یورپ میں تقریباً دس برس کے عرصے میں دس افراد کی تبدیلیِ جنس کا آپریشن کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر میرجلاجلی بتاتے ہیں کہ وہ گزشتہ بارہ برس میں تبدیلیِ جنس کے 320 آپریشن کر چکے ہیں۔ آیت اللہ خامنئی نے ایک کتاب میں اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ تبدیلیِ جنس کے آپریشن کی اجازت ہے اور ایران کے موجودہ روحانی پیشوا نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ |