بیضہ کی کامیاب پیوندکاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ میں ڈاکٹروں نے کینسر کی ایک مریضہ کے بیضے کو اس کے بازو میں پیوند کاری کے ذریعے محفوظ کر دیا ہے۔ ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی کےسرجنوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ خاتون اس طریقہ کے تحت حاملہ ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ اس تکنیک کے مطابق بیضے کو مکمل حالت میں رکھا جائے گا اور اسے خون کی مسلسل فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ ان تفصیلات کو ’کینسر‘ نامی رسالے میں شائع کیا گیا ہے۔ سائنسدان کینسر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بانجھ پن سے بچاؤ کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں۔ کچھ سائنسدانوں نے انڈوں کو منجمد کرنے کا طریقہ استعمال کیا ہے۔ ان منجمد انڈوں کی بعد ازاں IVF کے ذریعے سے افزائش کی جاتی ہے اور انہیں واپس بیضہ دانی میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ایک اور طریقہ بیضہ دانی کی بافتوں(tissues) کو علاج سے پہلے منجمد حالت میں محفوظ کرنے کا ہے جنہیں علاج کی بعد متاثرہ بافتوں سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس علاج کا سب سے کامیاب تجربہ بتیس سالہ اوردہ ٹوئیریٹ پر کیا گیا جب
لیکن اس قسم کے پیوند کاری میں خون کی کم فراہمی ناکامی کا باعث بنتی تھی۔ ڈاکٹر کیرینا ہلڈر اور ان کی ٹیم کو یقین ہے کہ بیضے کی بازو میں پیوند کاری سے ڈاکٹر ہلڈر کی ٹیم نے اس تکنیک کو ایک 29 سالہ خاتون پر استعمال کیا ہے جو کہ کینسر کی مریضہ تھی۔ اس تکنیک کو اوورین آٹو ٹرانسپلانٹیشن کا نام دیا گیا ہے۔ رسالے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ ایسا لگتا ہے کہ اوورین آٹو ٹرانسپلانٹیشن کینسرزدہ خواتین کے مسائل کا حقیقی حل ہے‘۔ لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ طریقہ علاج کیموتھراپی کروانے والی خواتین کے لیے موثر نہیں کیونکہ کیمو تھراپی میں تمام جسم متاثر ہوتا ہے۔ IVF ادارے کے ڈاکٹر جیمز کاٹ کا کہنا تھا کہ ’ یہ ایک اچھوتا خیال ہے اور آج تک کسی نے ایسا تجربہ نہیں کیا ہے‘۔ ’ آج سے پہلے تک لوگ بیضے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں منجمد حالت میں ہی محفوظ کیا کرتے تھے‘۔ ’یہ تکنیک اس لیے بہتر ہے کیونکہ اس عمل میں بافت کو منجمد کرنے کے بجائے انہوں نے یہ بھی کہا کہ تکنیک جو بھی ہو بیضہ کو کینسر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||