BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 November, 2004, 13:52 GMT 18:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیضہ کی کامیاب پیوندکاری
 بیضہ دانی
بیضے دانی کو مکمل حالت میں محفوظ کیا جائے گا
ہالینڈ میں ڈاکٹروں نے کینسر کی ایک مریضہ کے بیضے کو اس کے بازو میں
پیوند کاری کے ذریعے محفوظ کر دیا ہے۔

ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی کےسرجنوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ خاتون اس طریقہ کے تحت حاملہ ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

اس تکنیک کے مطابق بیضے کو مکمل حالت میں رکھا جائے گا اور اسے خون کی مسلسل فراہمی جاری رکھی جائے گی۔

ان تفصیلات کو ’کینسر‘ نامی رسالے میں شائع کیا گیا ہے۔

سائنسدان کینسر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بانجھ پن سے بچاؤ کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں۔

کچھ سائنسدانوں نے انڈوں کو منجمد کرنے کا طریقہ استعمال کیا ہے۔ ان منجمد انڈوں کی بعد ازاں IVF کے ذریعے سے افزائش کی جاتی ہے اور انہیں واپس بیضہ دانی میں رکھ دیا جاتا ہے۔

ایک اور طریقہ بیضہ دانی کی بافتوں(tissues) کو علاج سے پہلے منجمد حالت میں محفوظ کرنے کا ہے جنہیں علاج کی بعد متاثرہ بافتوں سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

اس علاج کا سب سے کامیاب تجربہ بتیس سالہ اوردہ ٹوئیریٹ پر کیا گیا جب
اس سال انہوں نے قدرتی طریقہ سے حاملہ ہونے کے بعد ایک بچی کو جنم دیا۔ ان کی بیضہ دانی کی بافتوں کو سات سال پہلے کیمو تھراپی سے قبل منجمد حالت میں محفوظ کر دیا گیا تھا۔

News image
ٹمارا ٹوئریٹ اووری ٹرانسپلانٹ کے ذریعے جنم لینے والی پہلی بچی ہے

لیکن اس قسم کے پیوند کاری میں خون کی کم فراہمی ناکامی کا باعث بنتی تھی۔

ڈاکٹر کیرینا ہلڈر اور ان کی ٹیم کو یقین ہے کہ بیضے کی بازو میں پیوند کاری سے
کامیابی کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ اس عمل میں بیضے کے خون کے خلیات کو بازو کے خون فراہم کرنے والے خلیات سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ہلڈر کی ٹیم نے اس تکنیک کو ایک 29 سالہ خاتون پر استعمال کیا ہے جو کہ کینسر کی مریضہ تھی۔ اس تکنیک کو اوورین آٹو ٹرانسپلانٹیشن کا نام دیا گیا ہے۔

رسالے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ ایسا لگتا ہے کہ اوورین آٹو ٹرانسپلانٹیشن کینسرزدہ خواتین کے مسائل کا حقیقی حل ہے‘۔

لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ طریقہ علاج کیموتھراپی کروانے والی خواتین کے لیے موثر نہیں کیونکہ کیمو تھراپی میں تمام جسم متاثر ہوتا ہے۔

IVF ادارے کے ڈاکٹر جیمز کاٹ کا کہنا تھا کہ ’ یہ ایک اچھوتا خیال ہے اور آج تک کسی نے ایسا تجربہ نہیں کیا ہے‘۔

’ آج سے پہلے تک لوگ بیضے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں منجمد حالت میں ہی محفوظ کیا کرتے تھے‘۔

’یہ تکنیک اس لیے بہتر ہے کیونکہ اس عمل میں بافت کو منجمد کرنے کے بجائے
خون کی فراہمی جاری رکھی جائے گی‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تکنیک جو بھی ہو بیضہ کو کینسر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد