جانور کی چھٹی حس انہیں بچا گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں وائلڈ لائف حکام کہ کہنا ہے کہ بحر ہند میں آنے والے بدترین طوفان سے جہاں لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہو گئی ہیں وہاں ایک بھی جانور کی لاش نہیں ملی ہے۔ سوماٹرا کے قریب سمندر کی سطح کے نیچے آنے والے زلزلے سے اٹھنے والی سونامی لہریں سری لنکا کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد ساڑھے تین کلو میٹر تک اندر آ گئیں جس میں جنگلی حیات کی ایک تحفظ گاہ بھی زیر آب آ گئی۔ اس تفریحی گاہ میں موجود کئی سیاح ڈوب گئے تاہم حکام اس بات پر حیران رہ گئے کہ اس تفریحی گاہ میں موجود کوئی بھی جانور ہلاک نہیں ہوا۔ اس حقیقت سے یہ بات اخذ کی جا رہی ہے کہ جانور کی چھٹی حس انسانوں سے تیز ہوتی ہے اور کسی بھی قدرتی آفت کا پہلے سے ادارک کر لیتے ہیں۔ سری لنکا میں یالا نیشنل پارک ہاتھی، ہرن، بھیڑئے اور مگر مچھ ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یالا نیشنل پارک جنگلی حیات کی نگہداشت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے اور چیتوں کے مشاہدے کے لیے سب سے بہترین جگہ تصور کی جاتی ہے۔ طوفان اور سیلاب کے بعد اس تحفظ گاہ کو بند کر دیا گیا ہے۔ سیلاب میں یہاں بہت سے سیاح اور عملے کے ارکان ڈوب گئے تھے۔ انڈونشیا کے جزیرے سماٹرا میں چیتوں کی ایک تحفظ گاہ میں کام کرنے والی ایک خاتوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ خبر ان کے لیے بالکل حیرانی کا باعث نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلی جانور انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قوت سماعت بہت تیز ہوتی ہے اور انہوں نے غالباً سیلاب آنے کی آواز کو بہت دور سے سن لیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ زمین میں ارتعاش بھی پیدا ہوا ہو گا اور ہوا کے پریشر میں بھی فرق پڑا ہو گا جس سے یہ جانور ہوشیار ہو گئے ہوں گے۔ قدرتی آفات سے قبل جنگلی حیات اور پرندوں کی ہجرت کے بہت سے آنکھوں دیکھے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ چھٹی حس کی کوئی سائنسی توجہی نہیں لیکن اگر یہ درست ہے تو یہ جانورں کے روئے کو سمجھ میں بہت مدد گار ثابت ہو سکتی ہے اور انسانوں کے لیے قدرت آفات سے بچنے کے لیے قبل از وقت واننگ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||