 |  دنیا بھر میں نئے سال کی تقریبات میں سونامی کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کو یاد کیا گیا |
دنیا بھر میں نئے سال کے موقع پر ہونے والی تقریبات میں سونامی سمندری طوفان کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے سبب جوش و خروش کم رہا۔ آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں، گو سال نو کی خوشی میں، نصف شب کو روائیتی، آتش بازی ہوئی لیکن اس موقع پر جمع دس لاکھ افراد کے ذہنوں میں یہ احساس نمایاں تھا کہ سونامی سمندری طوفان ، ایک لاکھ پچاس ہزار کی جانیں لے چکا ہے- تھائی لینڈ کے صحت افزا مقام پھوکت میں جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیلانی ہلاک ہوئے ہیں، نئے سال کی آمد پر لوگوں نے موم بتیاں روشن کیں۔ انڈونیشیا میں نئے سال کی آمد پر روائتی آتش بازی منسوخ کر دی گئی۔ سری لنکا اور ہندوستان میں بھی حکام نے سال نو کی تقریبات منسوخ کر دیں۔ بیشتر یورپی ملکوں میں پرچم سرنگوں رہے اور پیرس میں مشہور شاہراہ شاں زی لیزے کے درختوں پر سونامی کے سوگواروں سے یک جہتی میں سیاہ چادریں ڈال دی گئی تھیں۔ ترکی کے شہر استنبول میں جہاں سن ننانوے کے قیامت خیز زلزلہ میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ ہزار افراد کی یاد لوگوں کے ذہنوں میں اب بھی تازہ ہے شہر کے مرکز میں آتش بازی اور محفل موسیقی منسوخ کر دی گئی- یہاں لندن میں سال نو کی تقریبات کا آغاز سونامی طوفان کی تباہ کاری کے سوگ میں دو منٹ کی خاموشی سے ہوا لیکن دریائے ٹیمز پر آتش بازی ہوئی اور اس موقع پر پالیمنٹ سے ملحق بگ بین کو قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ |