BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 December, 2004, 21:21 GMT 02:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: 350 ملین ڈالر امداد کا اعلان
تامل ناڈو میں سونامی سے ایک بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے
امدادی کاموں میں ابھی بھی بڑی رکاوٹ ہے
امریکہ کے صدر جارج بش نے سونامی سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی رقم میں دس گنا اضافے کے اعلان کیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے اب امدادی مدد کو بڑھا کر 350 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس بات کا اعلان سینیئر امریکی اور اقوامِ متحدہ کے اراکین کے درمیان غیر ملکی امداد پر بات چیت کے بعد کیا گیا۔

دنیا کے تمام بڑے ممالک نے سونامی سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی امداد کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے امدادی کوششوں اور دور دراز علاقوں میں امداد کی فراہمی کے سلسلے میں ملاقات کے بعد کہا کہ مدد میں دس گنا رقم کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ترجیح انڈونیشیا کے صوبے آچے کو دی گئی ہے۔

جمعرات کو کوفی عنان نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ ایک ایسی تباہی ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس سلسلے میں بے مثال عالمی امداد کی ضرورت ہے‘۔


عالمی بینک اور دیگر ممالک نے ابھی تک اس آفت کے متاثرین کی بحالی کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔

عالمی بینک نے اپنی جانب سے 250 ملین جبکہ برطانیہ نے 96 ملین ڈالر کی
امداد کا اعلان کیا ہے۔

امداد دینے والے ممالک
عالمی بینک 250 ملین ڈالر
برطانیہ 96 ملین ڈالر
یورپی یونین 44 ملین ڈالر
امریکہ 350 ملین ڈالر
کینیڈا 33 ملین ڈالر
جاپان 30 ملین ڈالر
آسٹریلیا 27 ملین ڈالر
فرانس 20.4 ملین ڈالر
ڈنمارک 15.6 ملین ڈالر
سعودی عرب 10 ملین ڈالر
اقوامِ متحدہ، رائٹرز

امریکی وزیرِ خارجہ جمعہ کو کوفی عنان سے ملاقات کے بعد اتوار کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔

انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ چھ جنوری کو بین الاقوامی امدادی کانفرنس منعقد کر رہا ہے۔

اتوار کو آنے والی اس ہولناک آفت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اب بڑھ کر ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوگئی ہے جبکہ ہزاروں افراد ابھی تک لا پتہ ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ متاثرہ افراد خوراک، پانی اور جائے پناہ کے منتظر ہیں۔

انڈونیشیا میں زلزلے اور سونامی لہروں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے آچے میں لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے گورنر کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے۔بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اس اجتماع میں موجود قریبا ً ہر شخص نے اپنے کسی نہ کسی رشتہ دار یا جاننے والے کو اس تباہی میں کھویا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں نئے سال کی آمد سے متعلقہ تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

ملائشیا میں حکام نے نئے سال کے آغاز کے موقع پر ہونے والی آتشبازی کے پروگرام کو منسوخ کر دیا ہے اور لوگوں سے مرنے والوں کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔ملائشیا میں اس آفت کے نتیجے میں 66 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سری لنکا میں بھی نئے سال کی تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سری لنکا سونامی لہروں سے متاثر ہونے والے دوسرا بڑا ملک ہے۔ سری لنکا میں تمام مذاہب سے متعلقہ افراد مرنے والوں کی آخری رسومات میں مصروف ہیں۔

بین الاقوامی ریڈ کراس نے امداد کی فراہمی سے متعلق ایک خصوصی ویب سائٹ کا اجراء کیا ہے۔

سونامی آفت سے متاثرہ ممالک کے قرضوں کی معافی سے متعلقہ جرمنی کی تجویز کی حمایت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور فرانس نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

اٹلی نے قرضوں کی معافی پر بات چیت کے لیے جی ایٹ تنظیم کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلئیر نے کہا ہے کہ امداد کی فراہمی کا انتظام اقوامِ متحدہ کا کام ہے نہ کہ جی ایٹ تنظیم کا۔

سنامی سے متاثر شخصماہرین کی رائے
سونامی کی قبل از وقت خبر کیوں نہ ہوئی؟
متاثرینایڈ ورکر کی ڈائری
امدادی کارروائیاں اور کارکن کی مصروفیات
’خوش قسمت ہوں‘’خوش قسمت ہوں‘
مدراس میں بچ جانے والوں کی کہانیاں
بحر ہند طوفان’میرا بھائی مر گیا‘
’کپڑے کے نیچے سے ایک منا سا پاؤں باہر تھا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد