BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 December, 2004, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آچے: رابطے منقطع، امداد مشکل
آچے
آچے، تباہی سے پہلے اور تباہی کے بعد
انڈونیشیا کی بحری فوج نے اتوار کو بحرِ ہند کی سطح کے نیچے آنے والے تباہ کن زلزلے سے قریب ترین واقع انسانی آبادی کے بارے میں پہلی بار اطلاعات فراہم کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کہ میلابوہ نامی یہ جزیرہ مکمل طو پر تباہ ہو چکا ہے۔

انڈونیشیائی بحریہ کے ایک جہاز کے عملے نے بتایا کہ جب جمعرات کو وہ لوگ جزیرے پر پہنچے تو وہاں صرف دو سو مقامی لوگ موجود تھے جبکہ نوّے فیصد جزیرہ تباہ ہو چکا تھا۔

انڈونیشیائی بحریہ کے تین جہاز فوجیوں اور طبی امداد فراہم کرنے والے افراد کو لے کر سماٹرا کے ساحل کی جانب گئے ہیں۔

ایک خبر رساں ادارے کے فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ کچھ متاثرین کو اتوار کو سونامی سے آنے والی تباہی کے بعد سے اب تک کسی قسم کی امداد نہیں مل سکی ہے۔ یہ فوٹو گرافر موٹرسائیکل پر بارہ گھنٹے سفر کر کے جزیرے پر پہنچا تھا۔

انڈونیشیا کے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے آچے میں امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اس صوبے میں رابطے کے تمام نظام تباہ ہو چکے ہیں۔

آچے کے تمام ساحلی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور کچھ مکانات کی بنیادیں تک بہہ گئی ہیں۔علاقے میں موجود سڑکیں بندرگاہ اور ہوائی پٹی تباہ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے متاثرین کو امداد کی فراہمی نہایت مشکل ہو گئی ہے۔

انڈونیشیائی ہوائی جہاز علاقے میں خوارک اور اشیائے ضرورت کے بنڈل گرا رہے ہیں لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر سامان ناقابلِ استعمال ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد