لاشوں کی شناخت، مہینوں لگیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تھائی لینڈ میں سونامی لہروں سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کی شناخت میں کئی مہینے نہیں تو کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ تھائی لینڈ میں اب تک مرنے والوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار تک پہنچ چکی ہے جس میں سے اندیشہ ہے کہ کم از کم آدھے غیر ملکی سیاح تھے۔ مرنے والوں کے علاوہ چھ ہزار افراد ابھی تک لا پتہ ہیں۔ لاشوں کی شناخت کرنے والے عملے نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گم شدہ اور لاپتہ رشتہ داروں اور دوستوں کی تلاش کا کام ترک کر دیں اور گھروں پر رہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ رشتہ داروں اور دوستوں کی تلاش میں آنے والے امدادی کاموں میں روکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔ لاشوں کی شناخت کے لیے بین الاقوامی ماہرین تھائی لینڈ پہنچ چکےہیں تھائی لینڈ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ لاشوں کی شناخت میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں کیونکہ لاشیں سمندری پانی کی وجہ سے مسخ ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لاشوں کے دانتوں سے ڈی این اے کے نمونے لے کر ان کی شناخت کا کام کیا جارہا ہے۔ لاشوں کی آخری رسومات روائتی طریقے سے ادا نہیں کی جارہیں اور بیماریاں پھینلے کے خطرے کے پیش نظر انہیں اجتماعی طور پر جلایا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||