’دوبارہ سونامی، وارننگ غلط تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت نے کہا ہے کہ سونامی لہروں کے دوبارہ آنے کے متعلق جو وارننگ دی گئی تھی وہ صرف احتیاطی تدابیر کے لئے ہے اور اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ دوپہر کے بعد بحرہ ہند میں دوبارہ سمندری طوفان کے خدشے کی خبر سے کئی علاقوں میں افراتفری پھیل گئی تھی۔ نئی دلی میں سائنس اور ٹکنالوجی کے وزیر کپل سبل نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے احتیاطی تدبیر کے تحت اس طرح کی وارننگ دی ہے۔ لیکن اس سے ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وزیر نے وضاحت کی کہ داخلی امور کی جانب سے جو بیان آیا ہے اس میں انتظامیہ کو ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ مقررہ وقت پر سنامی کہ حملہ ہوگا قطعی صحیح نہیں ہے۔ مسٹر سبل نے کہا کہ جس کمپنی نے اس طرح کے خدشات ظاہر کیے ہیں وہ در اصل اسی سے متعلقہ ٹیکنالوجی فروخت کرتی ہے اور اس خبر کے متعلق جب دوسرے اداروں سے دریافت کیا گیا تو اسکی تصدیق نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے بعد ایسے خدشات رہتے ہیں کہ دوبارہ طوفان آجائے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو انکے علاقے سے دور جانے کو کہا جائے اور دہشت پھیلائی جائے۔ کپل سبل کی اس وضاحت کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے بھی ایک نیوز کانفرنس ہوئی۔داخلی امور کے سکریٹری اے کے رستوگی کا کہنا تھا کہ چونکہ ماہرین کی جانب سے سنامی لہروں کے بارے میں اس طرح کی خبریں آئی تھیں۔ اسی لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام افسران کو خبردار کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ خطرہ اب بھی برقرار ہے لیکن اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ نئی دہلی میں جمعرات کے روز دوپہر سے ذرا قبل وزارت داخلہ سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا تھاکہ بارہ بجے کے بعد بحرہ ہند میں ایک اور سنامی لہروں کا حملہ ہوسکتا ہے۔ پورے ملک میں یہ خبر جنگل کے آگ کی طرح پھل گئی۔ اعلان کردیا گيا کہ ساحل سے دو ڈھائی کلومیٹر کی دوری تک پناہ کے لیے سارے لوگ چلے جائیں۔حکام امدادی کام چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گیے۔اس افراتفری کےماحول میں بھگدڑ مچ گئی۔ خود وزیراعظم منموہن سنگھ جو متاثرہ علاقوں کے دورے پر تھے اس خدشے کے سبب کئی جگہ نیچے نہیں اترے اور صرف فضائی سروے پر ہی اکتفا کیا۔ اس پورے واقعے سے نظام درہم برہم ہونے کے سبب امدادی کاروائیوں پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔لیکن حکام کا کہنا ہے اب آہستہ آہستہ ساحلی علاقے کے باشندوں کی سراسیمگی میں کمی آرہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||