عراق پر امریکیوں کا اختلاف رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کچھ امریکیوں کے لیے عراقی انتخابات کے نتائج اس اطمینان کا باعث ہیں کہ جانوں کی قربانی اور اس جنگ پر لگایا گیا پیسہ جائز مقصد پر صرف ہوا ہے۔ تاہم دیگر امریکی ابھی بھی عراق میں امریکی مداخلت کے بارے میں سنگین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ ایک درست اقدام تھا یا نہیں۔ یاد رہے کہ عراق کے خلاف جنگ میں 1400 امریکی ہلاک ہوئے ہیں اور ٹیکس ادا کرنے والے امریکیوں کی اربوں ڈالر کی رقم اس جنگ پر خرچ کی گئی ہے۔ امریکہ میں ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ عراق میں انتخابات کی بظاہر کامیابی سے امریکی عراق کے مستقبل کے بارے میں مزید پر امید ہوگئے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق اکیاون فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایک مستحکم اور جمہوری عراقی حکومت کے قیام کا امکان بڑھ گیا ہے جبکہ انتخابات سے قبل صرف چھیالیس فیصد افراد یہ رائے رکھتے تھے۔ ایک علحیدہ سروے کے مطابق دو تہائی امریکیوں کا خیال ہے کہ عراقی انتخابات جائز تھے اور نصف سے زیادہ کے خیال میں عراق میں اگلے پانچ سال کے دوران مستحکم جمہوری حکومت قائم ہوسکے گی۔ تاہم اس معاملے پر کہ آیا عراق پر جنگ مسلط کرنے کا امریکی فیصلہ درست تھا یا نہیں، امریکی عوام میں گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچاس فیصد افراد جنگ کے حق میں ہیں جبکہ بقیہ پچاس فیصد اس کے خلاف۔ اگرچہ بش انتظامیہ انتخابات کے نتائج کا خیر مقدم کرے گی تاکہ یہ ثابت کرسکے کہ امریکی جانوں کی قربانی اور پیسہ صحیح مقصد کے لیے خرچ کیے گئے تاہم بلاشبہ عراق میں ابھی بڑے مسائل سر اٹھائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||