عراق: انتخابی میدان میں امریکی فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر حیدرآباد کے علاقے ٹنڈو آغا کے سید سکندر شاہ کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ ان کی امریکہ میں مستقل سکونت ترک کیے جانے کے باوجود بھی ان کا سوشل سیکیورٹی نمبر استعمال کیا جاتا رہا ہوگا اور نہ ہی پاکستان سے ہر چھ ماہ بعد امریکہ آنیوالے محمد افضل کو اس بات پر کوئی حیرانگی ہوگی کہ انہیں اپنے کام کی ہفتہ وار لیکن نقد اجرت سکندر شاہ کے سوشل سیکیورٹی کے نام سے مل رہی ہے جو امریکہ میں موجود ہی نہیں۔ اسی سوشل سیکیورٹی میں اصلاحات صدر جارج ڈبلیو بش کی بدھ کی شام ’یونین آف دی اسٹیٹ‘ تقریر کے اہم اعلانات میں سے ایک تھیں۔ جس طرح پاکستان اس آنکھ سے دیکھے جانے سے مختلف ہے جس آنکھ سے آپ اسے اسلام آباد سے دیکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ امریکہ قطعاً اس امریکہ سے مختلف ہے جو واشنگٹن، امریکی میڈیا یا ہالی ووڈ کی فلموں میں دیکھنے میں آتا ہے۔ میں نے اپنے محلے میں اس چھیانوے سالہ بزرگ کو دیکھا جس کی آماجگاہ گرمی ہو کہ سردی، کار پورچ میں چھتری کے نیچے ایک لکڑی کا خستہ بینچ اور اس پر بچھایا ہوا ایک بوسیدہ بستر ہے۔ وہ روزانہ کا اخبار بِین ہے۔ جنگِ عراق شروع ہونے سے پہلے وہ اخبار خریدنے قریبی اسٹور پر جاتے، اخبار ہاتھ میں اٹھاتے اور خود سے پوچھتے’جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی؟‘۔ جنگ کے بارے میں ان کی بےچینی اور اخبار کے صفحات پر نگاہ ایسے منتظر ہوتی جیسے کہ تمام دنیا کسی بڑے بھونچال کی متوقع آمد پر سانس روکے کھڑی ہو۔اب اسی تجسس کیساتھ وہ عراقی انتخابات کے بارے میں متقکر نظر آئے۔
گرمی، سردی میں ایک میلا کچیلا ہری رنگت کا کھلے بٹنوں والا اوورکوٹ اور بغیر تسموں والا جوتا پہنے اپنی شامیں قریبی بس اسٹاپ کی پتھر کی بینچ پر گزارنے والے یہ چھیانوے سالہ امریکی گویا کہ دنیا اور امریکہ کی گزشتہ صدی ہیں۔ اس عمر رسیدہ امریکی کو فرینکلین روز ویلٹ سے لے کر جارج ڈبلیو بش تک کے ’سوشل سیکیورٹی سسٹم‘ نےاتنا بھی نہیں دیا کہ وہ نوے سے اوپر کے پیٹے میں کسی’ سینئیرگھر‘ میں اپنی زندگی کے یہ بہت ہی پچھلے دن بسر کر سکتے۔ ’امریکیوں کو ۔۔۔۔۔۔ بھی معلوم نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سب کے سب عراقی بُرے لوگوں (دھشت گردوں) کی طرح ہیں اس طرح جیسے سی این این والے بتاتے تھے اور امریکی اعتبار کرتے تھے کہ افغانستان میں سب کے سب طالبان ھیں اور بدھا کے مجسمے توڑتے ھیں لیکن آج انہیں پتہ چل گیا ہم جمہوریت چاہتے ہیں۔‘ مجھے قریبی شراب کی دکان والے نک نے بتایا۔
نک کا اصل پیشہ خطاطی تھا۔ نک نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی عمر میں پہلی بار عراقی انتخابات میں آزادانہ ووٹ کا استعمال کیا- اپنی دوکان پر محلے اور شہر سے محاذ جنگ پر گئے کچھ لڑکوں اور لڑکیوں کے فوٹو شیشوں میں سجائے نک نے مجھ سے کہا ’ انتخابات والے دن تو پہلے چار گھنٹے عراق میں میرے علاقے میں خوف اور سناٹا چھایا رھا- میں نے ٹیلیفون پراپنی ماں کو کہا تھا کہ پولنگ کے پہلے گھنٹوں میں اگر کوئی گولی اور دھماکہ سننے میں نہ آئے تو ضرور ووٹ دینے جانا۔ چار گھنٹوں تک کوئی بھی خراب واقعہ نہیں ہوا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ عراقی جمہوریت چاہتے ہیں۔‘
’ھمیں اپنے کرد خون پر فخر ھے۔‘ ووٹ دینے کے لیے جانے والے دو کرد نوجوانوں کی ٹی شرٹوں پر لکھا تھا۔ جبکہ انکے باپ نے روایتی کرد لباس پہنا ہوا تھا۔ دنیا میں عراقی تارکین وطن کی کوئی دو لاکھ بیس ہزار تعداد میں سے دس فیصد امریکہ میں بستے ھیں اور ان میں چھتیس ہزار بشمول کالدین(caldeans) کیلفورنیا میں ہیں۔ لاس اینجلس ٹائمز نے کیلیفورنیا میں عراقی ووٹروں کا پولنگ اسٹیشنوں پرٹرن آؤٹ نوے فیصد بتایا۔ عراقی انتخابات کے دوسرے دن لاس اینجلس ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا:’ مارٹر اور بندوقوں کی گھن گرج کی آوازوں میں ووٹ ڈالنا بڑی ہمت کی بات ہے۔ ووٹ دینے کیلیے جانے والوں کے ذہنوں میں دہشت گردی کی یادداشتیں اب تک تازہ ہونگی۔‘ اس دن نیشنل پبلک ریڈیو کے شو ’فریش ایئر‘ میں پاکستانی مصنف اور صحافی احمد رشید بتا رہے تھے کہ عراق میں فلوجہ میں لڑنے والے شدت پسندوں میں سے سات پاکستانی لشکر طیبہ کے عسکریت پسند بھی تھے۔ لیکن نک جیسے عراقیوں کا کہنا تھا :’جب صدام حسین کی دہشت اور اسکا دور ختم ھو سکتا ھے تو عراق میں موجودہ دہشتگردی بھی ختم ہو سکتی ھے۔‘ عیسائی عقیدے کالدین کے نک کہتے ہیں’ چاہے کوئی بھی جیت کر آئے، چاہے شیعہ ہوں یا سّنی لیکن انتخابات دہشت کے خاتمے کی طرف ایک بڑھتا ہوا قدم تو ہے‘۔ اور پھر وہ ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب ان کے کاروباری دفتر میں بعث پارٹی کے لوگ آتے اور صدام حسین کی تصویر وہاں آویزاں نہ کرنے پر ڈراتے دھمکاتے اور ان سے پیسے اینٹھتے۔ صدر بش کی ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ تقریر کے دوران ان ریپبلیکن سینٹروں اور کانگرس کے اراکین کو شہادتی انگلیاں بلند کرتے ہوئے ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا جو اپنی انگشت شہادت پر بنفشی سیاہی لگا کر عراقی ووٹر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے لیکن آپ میں سے بہت سوں کو ’انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونےوالا‘ مقولہ یاد آ سکتا ھے۔ ادھر کولوراڈو یونیورسٹی کے ایتھنک اسٹڈیز کے پروفیسر وارڈ چرچل کے اس بیان پر ایک ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے جس میں پروفیسر وارڈ چرچل نے عراق میں امریکی پالیسی کو ہٹلر کی نازی جرمنی کی پالیسی سے تعبیر کیا ہے۔
پروفیسر وارڈ چرچل نے اپنے ایک لیکچر میں کہا تھا ’یقیناً مجھے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں مارے جانے والے لوگوں سے ہمدردی ھے، اور اتنی ہی ھمدردی عراق اور فلسطین میں مارے جانے والے لوگوں سے ہے‘۔ اسی بیان کی وجہ سے پروفیسر چرچل میڈیائی، تدریسی اور سیاسی حلقوں نیویارک اسٹیٹ کے مشہور ہیملٹن کالج کے کرکلینڈ پروجیکٹ کی طرف سے وہ لیکچر کیلیے مدعو تھے۔ اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے کرک لینڈ پروجیکٹس کو ملنے والی 175 ملین ڈالر کی امداد کی منسوخی کی مہم چلائی ہے اور لوگوں سے پروجیکٹ کا بائیکاٹ کرنے پر زور دیا ہے۔ تاحال ہیملٹن کالج نے ان کا لیکچر منسوخ کردیا ہے- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||